
Genre: nasheed, naat, madih, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This is Mohamed Tarek’s Urdu naat rendition of “Faslon Ko Takalluf Hai Hum Se Agar,” a devotional poem expressing longing for the Prophet Muhammad and the sacred city of Madina. The performance presents the text in a contemporary nasheed setting for listeners of South Asian naat poetry.
← Browse

About this recordingAuto-generated
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung by voice or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →naatNaat · Urdu / Persian نعتUrdu or Persian poetry in praise of the Prophet ﷺ, usually sung without instruments.Browse →Glossary →madihMadih · Arabic مديحPraise poetry sung for the Prophet Muhammad ﷺ.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Story & Cultural Context
This is Mohamed Tarek’s Urdu naat rendition of “Faslon Ko Takalluf Hai Hum Se Agar,” a devotional poem expressing longing for the Prophet Muhammad and the sacred city of Madina. The performance…
Titles in Other Languages
العربيةفاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر
EnglishIf Distance Is Difficult for Us
Lyrics
بعض لوگوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے راستے میں اگر پاؤ تھک جائیں گے ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں کس دن بھٹک جائیں گے ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے بعض لوگوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے راستے میں اگر پاؤ تھک جائیں گے جیسے ہی سبز گمبد نظر آئے گا بندگی کا قرینا بدل جائے گا سر جھکانے کی فرصت ملے گی کسے خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے بعض لوگوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے راستے میں اگر پاؤ تھک جائیں گے نام آقا جہاں بھی لیا جائے گا ذکر ان کا جہاں بھی کیا جائے گا نور ہی نور سے نور میں بھر جائے گا سارے محفل میں جلوے لپک جائیں گے بعض لوگوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے راستے میں اگر پاؤ تھک جائیں گے اے مدینے کے ظاہر خدا کے لیے داستان سفر مجھ کو یوں مت سنا بات بڑھ جائے گی دل تڑپ جائے گا میرے محلت آت آنسو چھلک جائیں گے بعض لوگوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں بعض لوگوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں