Skip to main content
Jahan Roza e Pak cover art

Jahan Roza e Pak

by Syeda Areeba Fatima

Album: Singles

Duration: 7:35

Genre: nasheed, naat, munshidYear: 2025Type: nasheed

Story & Cultural Context

This Urdu naat was presented as a Ramadan 2025 release by Syeda Areeba Fatima. Its title, “Jahan Roza-e-Pak,” expresses devotional longing for the Prophet Muhammad’s blessed tomb and the spiritual atmosphere associated with Madinah.

← Browse
Jahan Roza e Pak

Jahan Roza e Pak

Singles 7:35 2025
About this recordingAuto-generated
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung by voice or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →naatNaat · Urdu / Persian نعتUrdu or Persian poetry in praise of the Prophet ﷺ, usually sung without instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
OccasionRamadan

Story & Cultural Context

This Urdu naat was presented as a Ramadan 2025 release by Syeda Areeba Fatima. Its title, “Jahan Roza-e-Pak,” expresses devotional longing for the Prophet Muhammad’s blessed tomb and the spiritual…

Titles in Other Languages

EnglishWhere the Blessed Tomb Lies

Lyrics

مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ جہاں روزہ پاک خیر الورا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جہاں روزہ پاک خیر الورا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے کہاں میں کہاں یہ مدینہ کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے محمد کی عظمت کو کیا پوچھتے ہو کہ وہ صاحب کمان کو سین تھہرے مشرقی سریح مہمان نوازی یہ عظمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جہاں روزہ پاک خیر الورا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جو آسی کو کملی میں اپنی چھپا لے جو دشمن کو سینے سے اپنے لگا لے اسے اور کیا نام دے گا زمانہ وہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جہاں روزہ پاک خیر الورا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے قیامت کا اک دن کوئی ان ہے یہ کن ہماری لئے ہر نفس ہے قیامت مدینہ سے ہم جاں نساروں کی دوری قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جہاں روزہ پاک خیر الورا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے شفاعت قیامت کی تابے نہیں ہے یہ چشمہ تو روزِ ازل سے ہے جاری خطا کا بندوں پہ لطف مصلصل شفاعت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جہاں روزہ پاک خیر الورا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے تو مقبال یہ نام کہے تو رہے ہو مگر یہ بھی سوچا کہ کیا کہہ رہے ہو کہاں تم کہاں مدحن مندوں میں آزادان یہ جرات نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے جہاں روزہ پاک خیر الورا ہے وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے کہاں میں کہاں یہ مدینہ کی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے پھر اور کیا ہے