Skip to main content
Shaheed Ka Hai Muqam Kesa cover art

Shaheed Ka Hai Muqam Kesa

by Muaviya Bin Azam

Album: Singles

Duration: 6:36

Genre: nasheed, ilahi, munshidYear: 2021Type: nasheed

Story & Cultural Context

A 2021 Urdu devotional nasheed centered on the spiritual status and honor of a shaheed (martyr). The title identifies it as a new kalam associated with Hafiz Hassan Anzar and performed by Muaviya Bin Azam.

← Browse
Shaheed Ka Hai Muqam Kesa

Shaheed Ka Hai Muqam Kesa

Singles 6:36 2021
AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →ilahiIlahi · Turkish ilahiA Turkish devotional hymn, often from the Sufi tradition.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →

Credits

LyricistHafiz Hassan Anzar

Story & Cultural Context

A 2021 Urdu devotional nasheed centered on the spiritual status and honor of a shaheed (martyr). The title identifies it as a new kalam associated with Hafiz Hassan Anzar and performed by Muaviya Bin…

Titles in Other Languages

العربيةشہید کا ہے مقام کیسا
EnglishWhat Is the Status of a Martyr Like?

Lyrics

وہ وقت کے اس پار جا کے دیکھو ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو شہید کا ہے مقام کیسا وہ وقت کے اس پار جا کے دیکھو فریاد فریاد کے جام سے ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو کہ حسن فانی کے کیا طلب ہے خدا کے عاشق بنو تو تب ہے خدا کے عاشق بنو تو تب ہے غلام بن کے مہکے اٹھیں گے جگر پہ یہ زخم کھا کے دیکھو شہید کا ہے مقام کیسا وہ وقت کے اس پار جا کے دیکھو فریاد فریاد کے جام سے ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو کسی کے دل پہ گمان نہیں نہ خبر ذرا چشم گوش کو ہے خبر ذرا چشم گوش کو ہے شہید پر جو عنایتیں ہیں کتاب و سنت بتا کے دیکھو شہید کا ہے مقام کیسا وہ وقت کے اس پار جا کے دیکھو فریاد فریاد کے جام سے ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو نکھر تجائے گا تن بدن اور جمال آئیں گا خال و خط پہ بڑے گا حسن و جمال کتنا ذرا لہو میں نہا کے دیکھو شہید کا ہے مقام کیسا وہ وقت کے اس پار جا کے دیکھو فریاد فریاد کے جام سے ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو باغ جنت کی نازنی جو تمہاری دلہن بنی کھڑی ہے تمہاری دلہن بنی کھڑی ہے تم ہی تو دولہا ہو دے دے کیسی یہ سرخ مہندی لگا کے دیکھو شہید کا ہے مقام کیسا وہ وقت کے اس پار جا کے دیکھو فریاد فریاد کے جام سے ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو نہیں ہے نادان کو کچھ خبر یہ شعور والے ہی جانتے ہیں شعور والے ہی جانتے ہیں خدا کی جو میری زبانیہ ہیں وہ فاقی رسمیں نبھا کے دیکھو شہید کا ہے مقام کیسا وہ وقت کے اس پار جا کے دیکھو فریاد فریاد کے جام سے ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو غرور تم کو نہیں ہے زیبا اسے نہ کہو رو خدا کا حق ہے اسے نہ کہو رو خدا کا حق ہے ملیں گے عزمت کے تاج کیا کیا ذرا اس خود کو مٹا کے دیکھو شہید کا ہے مقام کیسا وہ وقت کے اس پار جا کے دیکھو فریاد فریاد کے جام سے ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو یہ تیر و تلوار اور خنجر تمہارے زیور ہے اے جوانوں تمہارے زیور ہے اے جوانوں حسین لگتے ہو کس قدر تم یہ اسلاحہ تو سجا کے دیکھو شہید کا ہے مقام کیسا وہ وقت کے اس پار جا کے دیکھو فریاد فریاد کے جام سے ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو وہ وقت کے اس پار جا کے دیکھو ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو شہید کا ہے مقام کیسا وہ وقت کے اس پار جا کے دیکھو