
Genre: nasheed, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
An Urdu nasheed performed by Muaviya Bin Azam, titled “Ham Hain Abtaal,” meaning “We Are Heroes.” Publicly available metadata identifies the performer and track title, but does not reliably document the song’s composer, lyricist, arrangement, instrumentation, or specific occasion.
← Browse

AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Story & Cultural Context
An Urdu nasheed performed by Muaviya Bin Azam, titled “Ham Hain Abtaal,” meaning “We Are Heroes.” Publicly available metadata identifies the performer and track title, but does not reliably document…
Titles in Other Languages
العربيةہم ہیں ابطال
EnglishWe Are Heroes
Lyrics
اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر مسلمان اہل شواہر ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم مسلمان اہل شواہر ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم مسئلہ دیار ہاری کے ہے جان شیراں حساب نفسے پھر سے حائل ہیں ہم مسلمان اہل شواہر ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اپنے اصلاح جسمتوں کے نیشاں ہم ہی امت کی خطہ و سفر کا بیاں شمری نے مو بھی کے جری باسداں حصرے نو میں خلافت کے ایک ترجماں حصرے نو میں خلافت کے ایک ترجماں خموش سمت سمت غائل ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم مسلمان اہل شواہر ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم اب جنگ کا پاسہ پلٹے گا بندوق چلائی جائے گی اب جاں صدے گے جسموں پر تلوار اٹھائی جائے گی ایک ہی آواز ہے ہم نہ اب باری دشائے گا خود پھر سے کجائے گا خود پر سے کم مٹ جائے گا ہم نے درتانیہ تو شکستیں ہیں دیروس اب تک ہیں قدموں پہ اپنے حسیح رستے اپنے سے ہمیں تھے بچانا حری بچ کے بھارت نہ امریکہ جائے کہیں بچ کے بھارت نہ امریکہ جائے کہیں مار کرنے چلے ان کے زائل ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم مسلمان اہل شواہر ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم مندر میں نہ نین چھو جائیں گی یہ جین پھلایا جائے گا بھولا پوکھایا جائے گا سیاست لگایا جائے گا ظلم کی غیرم جائے گی باطل کو مٹایا جائے گا مذہب خلافت میں آئے گا اور فلسفہ ربے ہرائے گا اس سے پہلے بھی بچ کر نہ بھاگے تھے وہ توڑے جب لگ گئی سب سے آگے تھے وہ کیسے بات کرتے ہم تار پاگے تھے وہ سب نشا تھا ہمیں اسے جاگے تھے وہ سب نشا تھا ہمیں اسے جاگے تھے وہ لہذا بدخوضم کو کے قائل ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم مسلمان اہل شواہر ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ہم بے اول ہے پوری ہی ملت کا ہم دیکھنا تم بھی ٹوٹے نہ ہم سے علم سارے اقوام باطل سے جنگے پہ ہم ساتھ تم بھی تو دو نہ قدم با قدم ساتھ تم بھی تو دو نہ قدم با قدم ہو جو مسلم تو اسرت کے سائل ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم مسلمان اہل شواہر ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم مسلمان اہل شواہر ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم کوئی انصاف ہوا جب ہمارا نہیں تیرے جمہوریت بھی گزارا نہیں اس شریعت ہمیں کچھ بھی پیارا نہیں مرسے مغرب کے کوئی سہارا نہیں مرسے مغرب کے کوئی سہارا نہیں بھاہمیت ہے جو بے بسائل ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم مسلمان اہل شواہر ہیں ہم دین پر کٹ مرے اس کے قائل ہیں ہم اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر دل مسلم میں کھو جائیں گے سب رنج ھٹ جائیں گے اور سینے محمد کے بارے پھر صبحیں آئیں گے پھر صبحیں آئیں گے