Skip to main content
Saf Shikan cover art

Saf Shikan

by Muaviya Bin Azam

Album: Singles

Duration: 5:39

Genre: nasheed, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

“Saf Shikan” (صف شکن) is an Urdu nasheed performed by Muaviya Bin Azam, with Hafiz Munir Ahmd credited in the title. Publicly available information identifies it as a standalone nasheed, but does not reliably document its composer, musical arrangement, maqam, instrumentation, or release context.

← Browse
Saf Shikan

Saf Shikan

AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →

Credits

LyricistHafiz Munir Ahmd

Story & Cultural Context

“Saf Shikan” (صف شکن) is an Urdu nasheed performed by Muaviya Bin Azam, with Hafiz Munir Ahmd credited in the title. Publicly available information identifies it as a standalone nasheed, but does not…

Titles in Other Languages

العربيةصف شکن
EnglishLine Breaker

Lyrics

نعرہِ تکبیر اللہ اکبر
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
جو مجاہد کے لشکر ان کی تم لوگ کچھے خبر
دین حق پر مر مٹیں گے ان کے سے ہے جگر
وہ ہے فولادی بدن اور وہ ہے حمد کے شجر
شہ محمد کا ہے لشکر یہ بیگھ شیطان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
ظلمتوں میں نور کی کھلتی ہوئی وہ ہے سہر
استقامت کے جبل ہے اور عدو پر ہے قہر
جن کو جھک کر کے ہے رہا ہے مرحبا یہ قمر
دشمنوں کو جو کچل دے یہ وہی توفان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
آج بھی مغرب کے ہٹلر روبرو آتے نہیں
جنگ کے میدان میں ان سے ہم کبھی ہارے نہیں
دوب جائے جو صبح کو ہم ستارے وہ نہیں
دین کے آغوش میں جو ہے وہی سلطان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
ہم کو غیروں نے کبھی بھی آکے چھیڑا ہے اگر
آگ میں ان کو ملایا ہے گواہ شجروں ہجر
پوچھ لو دشمن سے میرے اسے نے کھایا ہے زرر
ایسی شوکت سے ہی جینا میرا یہ ایمان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
ہم شہادت کے ہیں طالب ہم ہیں غازی دین کے
آسمہ ہم شیر دے ہم ہیں سپاہی دین کے
ہم سے روشن یہ زمانہ ہم ہیں داعی دین کے
زین کی یہ شاعری تو زی قدر زی شان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے
صف شکن باطل کی ہم سے یہ ہماری شان ہے
ہر جہاں میں دین حق کی ایک الگ پہچان ہے