
Genre: nasheed, naat, madih, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
An Urdu devotional naat whose title, “Herat Hai Hewaano Ko,” suggests imagery expressing wonder at the Prophet’s exalted character. The track credits Muaviya Bin Azam and names Jawad Raza Qadri in the title, but specific writing, melody, arrangement, and production credits could not be verified.
← Browse

AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →naatNaat · Urdu / Persian نعتUrdu or Persian poetry in praise of the Prophet ﷺ, usually sung without instruments.Browse →Glossary →madihMadih · Arabic مديحPraise poetry sung for the Prophet Muhammad ﷺ.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Featured Artists
Jawad Raza Qadri
Story & Cultural Context
An Urdu devotional naat whose title, “Herat Hai Hewaano Ko,” suggests imagery expressing wonder at the Prophet’s exalted character. The track credits Muaviya Bin Azam and names Jawad Raza Qadri in the…
Titles in Other Languages
العربيةحیرت ہے حیوانوں کو
EnglishThe Animals Are Astonished
Lyrics
آج تمہاری پکار ہی پر حیرت ہے حیوانوں کو تم تو کل تہذیب سکھانے نکلے تھے انسانوں کو یہ بھی کیسا شوق ہے تم کو شہروں کی بربادی کا جگہ جگہ آباد کیا ہے تم نے قبرستانوں کو ہستے ہستے کرئیے تم نے شولوں میں کفنائے ہیں ریت میں دفن کیا ہے تم نے کتنے نخلستانوں کو آج تمہاری پکار ہی پر حیرت ہے حیوانوں کو تم تو کل تہذیب سکھانے نکلے تھے انسانوں کو تم نے تو سچائی کو مترادف سمجھا لاٹھی کا آئین ترازو جان لیا ہے تم نے تیر کمانوں کو زندہ زندہ بھیڑ لگائی ہے تقصیر اسیرون کی مقتل میں تبدیل کیا ہے تم نے پھر زندانوں کو آج تمہاری پکار ہی پر حیرت ہے حیوانوں کو تم تو کل تہذیب سکھانے نکلے تھے انسانوں کو کتنے ہی معصوم سروں سے تم نے چھاؤں چھینی ہے کتنا دکھ بہجایا تم نے ننھی ننھی جانوں کو اتنے بھی صفاک منافق دنیا نے کب دیکھے تھے کتوں کا موں چومنے والے قتل کرے انسانوں کو آج تمہاری پکار ہی پر حیرت ہے حیوانوں کو تم تو کل تہذیب سکھانے نکلے تھے انسانوں کو ظلم ستم کی خون شب کا منظر بجھنے والا ہے ایک عنوان فراہ ہم ہوگا عبرت کے افسانوں کو باطل کا بے ہنگم ہوگا کوئی دم کا مہماں ہے کوئی شور دبا نہیں سکتا مست الست اذانوں کو آج تمہاری پکار ہی پر حیرت ہے حیوانوں کو تم تو کل تہذیب سکھانے نکلے تھے انسانوں کو