Skip to main content
Main Wo Bacha Nahi cover art

Main Wo Bacha Nahi

by Muaviya Bin Azam

Album: Singles

Duration: 5:49

Genre: nasheed, munshidYear: 2024Type: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be a standalone Urdu nasheed by Muaviya Bin Azam, circulated under the 2024 title “Main Wo Bacha Nahi.” The title translates approximately as “I Am Not That Child Anymore,” suggesting a reflective theme about personal growth or changed circumstances.

← Browse
Main Wo Bacha Nahi

Main Wo Bacha Nahi

Singles 5:49 2024
AI-Enriched95%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →

Story & Cultural Context

This appears to be a standalone Urdu nasheed by Muaviya Bin Azam, circulated under the 2024 title “Main Wo Bacha Nahi.” The title translates approximately as “I Am Not That Child Anymore,” suggesting…

Titles in Other Languages

EnglishI Am Not That Child Anymore

Lyrics

وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
نہ پو پڑنا رہے گا کبھی میدان میں کھڑا ہوں میں
نہیں آکوں میں پتھر ہوں دشمن سے لڑا ہوں میں
میرا دستاجبہ ہے کہ فرستی کام بن جاؤں
غلاموں سے زموجوں سے میں توفاں ہو سے لڑتا ہوں
وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
زمانے سے مگر رہنا ہے سنو گے رہیں سمنگے سے
زمانے کو سلیطہ سے بھی بلند ہے آسمانوں سے
نہیں ڈرتے ہیں ہم بس بوسلو نا چیز لشکر سے
مٹا دیں گے نشان ان کے نہ اپنے آشیانوں سے
وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
غضب ہے رب کی قدرت کا سبق مانی پڑھایا ہے
خدا کے دین کی خاطر یہ کتنا بھی سکھایا ہے
نہیں بھاگو دکھ جانتا کی پرواہ نہ کرتے ہیں
دل زخاروک پہ آسمبر کی گھریوں کو بھی رکھتے ہیں
وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
لہو سے گلچن کی نرگز سنازوں پہ بدن میرا مگر دشمن کیا دے ہم کبھی سرنگ نہیں ہوتا
ہماروں کے سامنے جھکنا یہ ساری رہن ساری نہیں منصور یہ ہم کو مسالے سے دنیاوں ساری
وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
ہمارا خون گناہ گار جائے گا کبھی سجا اسی سے یہ دن چمکے گی اپساکی زمیں سجا
گناہ فاق میں مل کر گلو گلسار بنتا ہے ہمارا تیر تو پنشا جسایہ دار بنتا ہے
وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے
اللہ اکبر