
Genre: nasheed, munshidYear: 2024Type: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be a standalone Urdu nasheed by Muaviya Bin Azam, circulated under the 2024 title “Main Wo Bacha Nahi.” The title translates approximately as “I Am Not That Child Anymore,” suggesting a reflective theme about personal growth or changed circumstances.
← Browse

AI-Enriched95%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Story & Cultural Context
This appears to be a standalone Urdu nasheed by Muaviya Bin Azam, circulated under the 2024 title “Main Wo Bacha Nahi.” The title translates approximately as “I Am Not That Child Anymore,” suggesting…
Titles in Other Languages
EnglishI Am Not That Child Anymore
Lyrics
وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے نہ پو پڑنا رہے گا کبھی میدان میں کھڑا ہوں میں نہیں آکوں میں پتھر ہوں دشمن سے لڑا ہوں میں میرا دستاجبہ ہے کہ فرستی کام بن جاؤں غلاموں سے زموجوں سے میں توفاں ہو سے لڑتا ہوں وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے زمانے سے مگر رہنا ہے سنو گے رہیں سمنگے سے زمانے کو سلیطہ سے بھی بلند ہے آسمانوں سے نہیں ڈرتے ہیں ہم بس بوسلو نا چیز لشکر سے مٹا دیں گے نشان ان کے نہ اپنے آشیانوں سے وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے غضب ہے رب کی قدرت کا سبق مانی پڑھایا ہے خدا کے دین کی خاطر یہ کتنا بھی سکھایا ہے نہیں بھاگو دکھ جانتا کی پرواہ نہ کرتے ہیں دل زخاروک پہ آسمبر کی گھریوں کو بھی رکھتے ہیں وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے لہو سے گلچن کی نرگز سنازوں پہ بدن میرا مگر دشمن کیا دے ہم کبھی سرنگ نہیں ہوتا ہماروں کے سامنے جھکنا یہ ساری رہن ساری نہیں منصور یہ ہم کو مسالے سے دنیاوں ساری وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے ہمارا خون گناہ گار جائے گا کبھی سجا اسی سے یہ دن چمکے گی اپساکی زمیں سجا گناہ فاق میں مل کر گلو گلسار بنتا ہے ہمارا تیر تو پنشا جسایہ دار بنتا ہے وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے وہ بچہ نہیں جو لشکر پاہمی سے ڈرتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے وہ بچہ اب جو پتھر لیے دشمنوں سے لڑتا ہے اللہ اکبر