Skip to main content
Nabi Ka Samna cover art

Nabi Ka Samna

by Muaviya Bin Azam

Album: Singles

Duration: 6:48

Genre: nasheed, naat, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

An emotional Urdu naat centered on the devotional longing to behold or meet the Prophet Muhammad ﷺ. The available title and artist metadata identify it as a tearful devotional performance, but do not provide verified songwriting, production, or release-context details.

← Browse
Nabi Ka Samna

Nabi Ka Samna

AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →naatNaat · Urdu / Persian نعتUrdu or Persian poetry in praise of the Prophet ﷺ, usually sung without instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →

Story & Cultural Context

An emotional Urdu naat centered on the devotional longing to behold or meet the Prophet Muhammad ﷺ. The available title and artist metadata identify it as a tearful devotional performance, but do not…

Titles in Other Languages

العربيةنبی ﷺ کا سامنا
EnglishFacing the Prophet

Lyrics

نبی کا سامنا
بہتے بہتے عشق ہے شرمندگی کا ہے سماں
لڑکھڑاتے گفتگو سے ہے نبی کا سامنا
اپ کی الفت ہے جس اسلام کا ایمان کا
میں مگر نالان جڑک پایا تیرے فرمان کا
کس قدر مجھ کو ہوا کا میں تیرے انسار کا
سلطوں کو مورد کے ہے بے بسی کا سامنا
بہتے بہتے عشق ہے شرمندگی کا ہے سماں
لڑکھڑاتے گفتگو سے ہے نبی کا سامنا
وادی طائف میں بہتے خون کی وہ وادیاں
بھول بیٹھا بھول بی جی آپ کی قربانیاں
درس باطل لب نے ڈب کر لا کے لی بربادیاں
کس قدر وحشت میں ہے حیوانگی کا سامنا
بہتے بہتے عشق ہے شرمندگی کا ہے سماں
لڑکھڑاتے گفتگو سے ہے نبی کا سامنا
آپ کا اٹھ اٹھ کے رونا ذکر امت کے لیے
سارے زنگوں فتر لینا ان کی راحت کے لیے
میں مگر کچھ کر نہ پایا تیری چاہت کے لیے
آپ سے رخ مورد کے ہے بے خودی کا سامنا
بہتے بہتے عشق ہے شرمندگی کا ہے سماں
لڑکھڑاتے گفتگو سے ہے نبی کا سامنا
بدر و خیبر کی روایت چھوڑ کر مس ہوا
ماں کے کٹتے روح پر چوکا ہے مجھ سے حلا
قبلہ اول آدوں کے ہاتھ میں پابند ہے
میرے آقا اس قدر ہے بستلی کا سامنا
بہتے بہتے عشق ہے شرمندگی کا ہے سماں
لڑکھڑاتے گفتگو سے ہے نبی کا سامنا
ہر قلب مسلمہ پر غفلتوں کا راج ہے
دل سے ہی ایمان سے ہے سوچ میں تاراج ہے
کس قدر بکرا ہوا مسلم کل اور آج ہے
ابن صادق ہے ہمارا بے ہی سی سے سامنا
بہتے بہتے عشق ہے شرمندگی کا ہے سماں
لڑکھڑاتے گفتگو سے ہے نبی کا سامنا
نبی کا سامنا