
Genre: nasheed, ilahi, munshidYear: 2026Type: nasheed
Story & Cultural Context
An Urdu nasheed centered on Al-Aqsa and expressing devotion, sacrifice, and solidarity with Palestine. The available title identifies it as a contemporary 2026 release by Muaviya Bin Azam, but detailed authorship and production credits are not clearly documented.
← Browse

AI-Enriched85%
Genre
OccasionPalestinenasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →ilahiIlahi · Turkish ilahiA Turkish devotional hymn, often from the Sufi tradition.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Story & Cultural Context
An Urdu nasheed centered on Al-Aqsa and expressing devotion, sacrifice, and solidarity with Palestine. The available title identifies it as a contemporary 2026 release by Muaviya Bin Azam, but…
Titles in Other Languages
EnglishFor Aqsa, I Offer My Blood and Heart
Lyrics
لبیک لبیک لبیک یا اقصا لبیک لبیک لبیک یا غزہ غزہ کے لیے باندری اب میں نے کمر ہے غزہ کے لیے پیش میرا خون جگر ہے میں جان اتیلی پہ لیے سربکفن ہوں غزہ کے لیے کٹنے کو تیار یہ سر ہے بن جاؤں قسیقار وقا میں بھی مسافر غزہ کی سرزمی تلے جو محو سفر ہے لبیک لبیک لبیک یا اقصا غزہ کے لیے باندری اب میں نے کمر ہے غزہ کے لیے پیش میرا خون جگر ہے لبیک لبیک یا اقصا کیسے نہ چلا جاؤں میں غزہ کو بچانے دوبال ہوں میں جب وہ فلسطین کا شہر ہے چلنی ہے جگر دیکھ کے غزہ کے شہر کو غزہ کے شہر میں جو بپا ایک حشر ہے لبیک لبیک لبیک یا اقصا غزہ کے لیے باندری اب میں نے کمر ہے غزہ کے لیے پیش میرا خون جگر ہے لبیک لبیک لبیک یا اقصا دل چیر کے رکھ دیتے ہیں غزہ کے صدائیں جن سے میرے اس دل کا جہاں زہر سفر ہے چھپسادوں گا کب تک میں اسے دیکھ لوں کب تک رخصے ہوں ندردوں کا جو یہ ظلم جبر ہے لبیک لبیک لبیک یا اقصا غزہ کے لیے باندری اب میں نے کمر ہے غزہ کے لیے پیش میرا خون جگر ہے لبیک لبیک لبیک یا اقصا میں ہوں نشہ رنگے زمد دکھ لاؤں گا اب میں ایوب کو وہ عیس جو ہے وہ کتنا نڑر ہے دنیا کو بھی معلوم ہو غزہ کا محافظ غزہ کی حفاظت کے لیے سینہ سفر ہے لبیک لبیک لبیک یا اقصا غزہ کے لیے باندری اب میں نے کمر ہے غزہ کے لیے پیش میرا خون جگر ہے غزہ کے لیے باندری اب میں نے کمر ہے غزہ کے لیے پیش میرا خون جگر ہے مل جائے مجھے موت شہادت کی غزہ میں آباد اسی عارض سے دل کا نگر ہے سینے میں شہادت کی تڑپ ہو جو ہجازی پھر موت کی پرواہ کسی موت کا ڈر ہے لبیک لبیک لبیک یا اقصا غزہ کے لیے باندری اب میں نے کمر ہے غزہ کے لیے پیش میرا خون جگر ہے لبیک لبیک لبیک یا اقصا