Skip to main content
Aqsa Ki Tanhai cover art

Aqsa Ki Tanhai

by Muaviya Bin Azam

Album: Singles

Duration: 3:54

Genre: nasheedYear: 2025Type: nasheed

Story & Cultural Context

An Urdu kalam centered on the theme of Aqsa’s loneliness, conveyed through a sorrowful devotional performance. Publicly available metadata does not identify the composer, lyricist, arrangement, or production credits.

← Browse
Aqsa Ki Tanhai

Aqsa Ki Tanhai

Singles 3:54 2025
AI-Enriched70%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →

Story & Cultural Context

An Urdu kalam centered on the theme of Aqsa’s loneliness, conveyed through a sorrowful devotional performance. Publicly available metadata does not identify the composer, lyricist, arrangement, or…

Titles in Other Languages

EnglishThe Loneliness of Aqsa

Lyrics

یوں آج تنہائی کیوں آج تنہائی
دم سا کے بنا رو سے ہے آج سدا ہی
کس مت میں بھلا ٹھہری کیوں آج تنہائی
میرا آج کے شب جسم میں آقا نعیمامت کی
اس مسجدرِ امساں میں نبیوں نے عبادت کی
اللہ کے ہر بندے نے جس سے محبت کی
یوں آج بیزاری اب سا کے لیے آئی
دم سا کے بنا رو سے ہے آج سدا ہی
کس مت میں بھلا ٹھہری کیوں آج تنہائی
دم سا کے بنا رو سے ہے آج سدا ہی
کس مت میں بھلا ٹھہری کیوں آج تنہائی
اے مسلم حابی دا مسلم کی مدد کو آ
فاروق کی جرت اور حیدر کی شجاعت لا
مجبور کی آہیں سن مظلوم کے درد مٹا
گلشن کا محافظ بن اے بندہ زہرائی
دم سا کے بنا رو سے ہے آج سدا ہی
کس مت میں بھلا ٹھہری کیوں آج تنہائی
دم سا کے بنا رو سے ہے آج سدا ہی
کس مت میں بھلا ٹھہری کیوں آج تنہائی
شمشیر سلف تھامو امت کو جگا جاؤ
تکبیر کے نعروں سے تکفیت مٹا جاؤ
فہنی ازائن کے پردے بھی گرا جاؤ
ہر ایک پہاڑ اپنی ہے بس کرو رائی
ہر دم سا کے بنا رو سے ہے آج سدا ہی
کس مت میں بھلا ٹھہری کیوں آج تنہائی
دم سا کے بنا رو سے ہے آج سدا ہی
کس مت میں بھلا ٹھہری کیوں آج تنہائی
رکھتے تھے جہاں بینی کرتے تھے جہاں بانی
ہوتی تھی وہی انسانوں کے دل پہ حکمرانی
کیوں کھو گئی مسلم کی وہ شوقت ایمانی
کیوں پائی بھلا اس قدر ہے آج رسوائی
ہر دم سا کے بنا رو سے ہے آج سدا ہی
کس مت میں بھلا ٹھہری کیوں آج تنہائی
دم سا کے بنا رو سے ہے آج سدا ہی
کس مت میں بھلا ٹھہری کیوں آج تنہائی
ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں