Skip to main content
Phir Se Aqsa Ko Sajain cover art

Phir Se Aqsa Ko Sajain

by Muaviya Bin Azam

Album: Singles

Duration: 5:11

Genre: nasheed, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

An Urdu nasheed centered on Al-Aqsa, calling for its restoration and expressing emotional solidarity with Palestine. Publicly available metadata identifies Muaviya Bin Azam as the performing artist, but does not clearly document the songwriter, composer, arrangement, or production credits.

← Browse
Phir Se Aqsa Ko Sajain

Phir Se Aqsa Ko Sajain

AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →

Story & Cultural Context

An Urdu nasheed centered on Al-Aqsa, calling for its restoration and expressing emotional solidarity with Palestine. Publicly available metadata identifies Muaviya Bin Azam as the performing artist,…

Titles in Other Languages

EnglishLet Us Adorn Aqsa Again

Lyrics

لبیق یا غزا

حرصِ غزا کو سجھائیں مومنوں باندھو کمر

ہم نے کے پرچم کو تھامو چل پڑو تم بے خطر

کونجوں تیں کی ازانیں امن کی ہوگی صدا

حق ہمیشہ ہے بلند تاریخ ہے اس پر گواہ

خون کی قربانیاں دے رب نے بھی سوغات ہیں

پھیلے گا دین کا پیام امن سے سارا نگر

ہم نے کے پرچم کو تھامو چل پڑو تم بے خطر

حرصِ غزا کو سجھائیں مومنوں باندھو کمر

ہم نے کے پرچم کو تھامو چل پڑو تم بے خطر

لبیق یا غزا

سبیلیوں جو سرطے کرو ساکھ جاؤ ہم قدم

اس پر میرا لگاؤ دین کا لہراو علم

ہو گئے باطل شکستہ اہل ایمان چھا گئے

مومنوں کی طاقت سے ہے کفار سارے منتشر

ہم نے کے پرچم کو تھامو چل پڑو تم بے خطر

حرصِ غزا کو سجھائیں مومنوں باندھو کمر

ہم نے کے پرچم کو تھامو چل پڑو تم بے خطر

لبیق یا غزا

عشقِ مہدی ہو عیسیٰ کے جری سالار تم

رب کی راہ پر جان دینا اصل ہے چاہ و ہشم

موت ہے برحق تو اس سے چلے یہ زندگی

فاردو شوقِ شہادت کر یہ گفتونِ جگر

ہم نے کے پرچم کو تھامو چل پڑو تم بے خطر

حرصِ غزا کو سجھائیں مومنوں باندھو کمر

ہم نے کے پرچم کو تھامو چل پڑو تم بے خطر

لبیق یا غزا

قوم کو متحد کرو ایک صف میں ہو جاؤ کھڑے

دیک جو دشمن تمہیں وہ خوف سے لرزا رہے

آپ کا ہر بار حملن پہ ہو حویث پر

دین کے غدار ہو جائیں سبی زیر و زبر

ہم نے کے پرچم کو تھامو چل پڑو تم بے خطر

حرصِ غزا کو سجھائیں مومنوں باندھو کمر

ہم نے کے پرچم کو تھامو چل پڑو تم بے خطر

لبیق یا غزا

تم پلٹ کر دیکھ لو تاریخ کے اوراق کو

ہے فتح اسلام کی معلوم ہے آفاق کو

بدر و احد خندق و یرموک اور زباں انہیں

اہلِ ایمان کی ہے جو یہ داستانِ موت بل

ہم نے کے پرچم کو تھامو چل پڑو تم بے خطر

حرصِ غزا کو سجھائیں مومنوں باندھو کمر

ہم نے کے پرچم کو تھامو چل پڑو تم بے خطر

لبیق یا غزا

لبیق یا غزا