
Genre: nasheedType: nasheed
Story & Cultural Context
A motivational Urdu nasheed centered on the exhortation “Utho Pasbano,” meaning “Rise, O guardians.” Publicly available metadata identifies the performer and title, but does not reliably document the composition, arrangement, maqam, instrumentation, or release context.
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →
Story & Cultural Context
A motivational Urdu nasheed centered on the exhortation “Utho Pasbano,” meaning “Rise, O guardians.” Publicly available metadata identifies the performer and title, but does not reliably document the…
Titles in Other Languages
العربيةاٹھو پاسبانوں
EnglishRise, O Guardians
Lyrics
اٹھو پاسبانو بقا کے نشانو سے اپنے اڑاتے چلو تم جہاں میں جہاں پہ ملے ظالموں کی کوئی سلطنت تو مکا دیتے چلو تم اٹھو پاسبانو بقا کے نشانو سے اپنے اڑاتے چلو تم اٹھو پاسبانو بقا کے نشانو سے اپنے اڑاتے چلو تم چلا دین حق کی بلندی کو آؤ قیامت کا رنگے ہے لباس دل پہ ڈھاؤ ملے گے تمہیں زخم راہ وفا میں ہر ایک زخم کا اثر بھی تم مسکراؤ نگاہیں رہے دشمنوں پر تمہاری قدم اپنے ہرگز نہ پیچھے ہٹاؤ دل دشمنہ خوف سے کپ جائے عدو کو نشانہ بناتے چلو تم اٹھو پاسبانو بقا کے نشانو سے اپنے اڑاتے چلو تم اٹھو پاسبانو بقا کے نشانو سے اپنے اڑاتے چلو تم سے تم اہل ایمان پہ جو پردھائے لہو مسلموں کا زمیں پر بھاہائے وہاں ماں و بہنوں کے چھینے ردائے انہیں ظلم سے بارہا وہ ستائے دہشت درے ان پہ دھاگ جمائے انہیں کو گھروں سے نکالے جلائے ابھی ان سے ظلم و ستم کا یہ بدلہ چکاتے چلو تم بتاتے چلو تم اٹھو پاسبانو بقا کے نشانو سے اپنے اڑاتے چلو تم اٹھو پاسبانو بقا کے نشانو سے اپنے اڑاتے چلو تم لہو سرقم کر دو اپنی کہانی بڑھو عیسیٰ کی کرا حکم رانی خوشی سے چلا رب کی راہوں میں دے دو تم اپنی جوانی حسین زندگانی کرو تم تمنا شہادت کے ایک دن یہی زندگانی تمہارے ہے جانی بیام محبت صدا کا دیانت شرافت عدالت سناتے چلو تم اٹھو پاسبانو بقا کے نشانو سے اپنے اڑاتے چلو تم اٹھو پاسبانو بقا کے نشانو سے اپنے اڑاتے چلو تم ملے ابن صادق صوف اسمدہ میں کنارے تکبیر گونجے فضامے وفا کی راہیں اگر پرختر ہے لُٹانے مگر جانے اس کی وفاہ میں خدا کی رضا ہے کرو اس میں ہر سے گراہے لہو اس خدا کی رضا میں وفا کا ترانہ شہادت کے نغمے ترنم سے لگ پر گناتے چلو تم اٹھو پاسبانو بقا کے نشانو سے اپنے اڑاتے چلو تم اٹھو پاسبانو بقا کے نشانو سے اپنے اڑاتے چلو تم