Skip to main content
Islam Ka Tofaan cover art

Islam Ka Tofaan

by Muaviya Bin Azam

Album: Singles

Duration: 5:33

Genre: nasheed, munshidYear: 2026Type: nasheed

Story & Cultural Context

This track is presented as a motivational Urdu nasheed centered on the phrase “Islam Ka Tofaan,” meaning “Storm of Islam.” Publicly verifiable information does not identify its composer, lyricist, arranger, instrumentation, or a specific event for which it was released.

← Browse
Islam Ka Tofaan

Islam Ka Tofaan

Singles 5:33 2026
AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

This track is presented as a motivational Urdu nasheed centered on the phrase “Islam Ka Tofaan,” meaning “Storm of Islam.” Publicly verifiable information does not identify its composer, lyricist,…

Titles in Other Languages

EnglishStorm of Islam

Lyrics

زندہ باد
زندہ باد
زندہ باد
زندہ باد
زندہ باد
زندہ باد
زندہ باد
زندہ باد
اسلام زندہ باد
اسلام زندہ باد
روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو
بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو
روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو
بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو
اسلام کی خاطر ہم خون اپنا بہائیں گے
لکھیں گے لہو سے ہم اسلام کے عنوار کو
غازی ہیں سپاہی ہیں ہم دین کے وارث ہیں
ایک زرب سے توڑیں گے باطل کے حریبان کو
روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو
بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو
اسلام زندہ بار
ہم دین کے ہے داری اسلام کے شہدائی
متنے نہیں دیں گے ہم اسلام کی پہچان کو
اسلام کی شما کے پروانے ہم ایسے
بجنے نہیں دیں گے ہم اس شما فروزاں کو
روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو
بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو
اسلام زندہ بار
اسلام کی خاطر ہم اب روند کے جائیں گے
سہراں سمندر کو ہر کوہ بیاباں کو
اولاد براہیمی میدان میں آئے ہیں
پیغام یہ دیں گے ہم نمروح حکمران کو
روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو
بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو
اسلام زندہ بار
کفن باندھیں اترے ہیں ہم گاہ میں
باطل کے جھکائے گا اس مرد مسلمہ کو
اسلام کی خوشبو سے مہکائیں گے دنیا کو
ہم خون سے سینچیں گے اس دین کے گلستان کو
روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو
بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو
اسلام زندہ بار
ہم خون شہیدہ سے طوفان اٹھائیں گے
تاریخ بنائیں گے ہم خون شہیدہ کو
قرآن کو لے کر ہم چھائیں گے جہاں بر میں
سینوں سے لگائیں گے قرآن کے فرما کو
روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو
بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو
اسلام زندہ بار
اسلام کے پرچم کو لہرائیں گے دنیا میں
ہم رستہ ہدایت کا دکھلائیں گے انساں کو
اس نور سے چمکے گا دنیا کا ہر ایک ذرہ
جس نور نے چمکایا کبھی وادی پاراں کو
آئے گا ہجازی جب وہ دور خلافت کا
بھر دے گا سکون سے وہ ہر پل بے پریشاں کو
روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو
بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو
اسلام زندہ بار