
Genre: nasheed, munshidYear: 2026Type: nasheed
Story & Cultural Context
This track is presented as a motivational Urdu nasheed centered on the phrase “Islam Ka Tofaan,” meaning “Storm of Islam.” Publicly verifiable information does not identify its composer, lyricist, arranger, instrumentation, or a specific event for which it was released.
← Browse

AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Credits
LabelWithout label
Story & Cultural Context
This track is presented as a motivational Urdu nasheed centered on the phrase “Islam Ka Tofaan,” meaning “Storm of Islam.” Publicly verifiable information does not identify its composer, lyricist,…
Titles in Other Languages
EnglishStorm of Islam
Lyrics
زندہ باد زندہ باد زندہ باد زندہ باد زندہ باد زندہ باد زندہ باد زندہ باد اسلام زندہ باد اسلام زندہ باد روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو اسلام کی خاطر ہم خون اپنا بہائیں گے لکھیں گے لہو سے ہم اسلام کے عنوار کو غازی ہیں سپاہی ہیں ہم دین کے وارث ہیں ایک زرب سے توڑیں گے باطل کے حریبان کو روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو اسلام زندہ بار ہم دین کے ہے داری اسلام کے شہدائی متنے نہیں دیں گے ہم اسلام کی پہچان کو اسلام کی شما کے پروانے ہم ایسے بجنے نہیں دیں گے ہم اس شما فروزاں کو روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو اسلام زندہ بار اسلام کی خاطر ہم اب روند کے جائیں گے سہراں سمندر کو ہر کوہ بیاباں کو اولاد براہیمی میدان میں آئے ہیں پیغام یہ دیں گے ہم نمروح حکمران کو روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو اسلام زندہ بار کفن باندھیں اترے ہیں ہم گاہ میں باطل کے جھکائے گا اس مرد مسلمہ کو اسلام کی خوشبو سے مہکائیں گے دنیا کو ہم خون سے سینچیں گے اس دین کے گلستان کو روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو اسلام زندہ بار ہم خون شہیدہ سے طوفان اٹھائیں گے تاریخ بنائیں گے ہم خون شہیدہ کو قرآن کو لے کر ہم چھائیں گے جہاں بر میں سینوں سے لگائیں گے قرآن کے فرما کو روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو اسلام زندہ بار اسلام کے پرچم کو لہرائیں گے دنیا میں ہم رستہ ہدایت کا دکھلائیں گے انساں کو اس نور سے چمکے گا دنیا کا ہر ایک ذرہ جس نور نے چمکایا کبھی وادی پاراں کو آئے گا ہجازی جب وہ دور خلافت کا بھر دے گا سکون سے وہ ہر پل بے پریشاں کو روکے گا کوئی کیسے اسلام کے طوفان کو بٹوی میں ملا دیں گے ہم کفر کے ارمان کو اسلام زندہ بار