
Genre: nasheed, munshidYear: 2026Type: nasheed
Story & Cultural Context
“Paigham-e-Hijazi” appears to be a contemporary Urdu motivational Islamic kalam by Muaviya Bin Azam. Publicly verifiable information about its production credits, musical mode, instrumentation, and release context is unavailable.
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Story & Cultural Context
“Paigham-e-Hijazi” appears to be a contemporary Urdu motivational Islamic kalam by Muaviya Bin Azam. Publicly verifiable information about its production credits, musical mode, instrumentation, and…
Titles in Other Languages
EnglishThe Hijazi Message
Lyrics
میرے لوگو سنو لوگو نہ ہو مایوس دل حالات کی تاریخ راہوں سے ہمیں قدموں کو اب آگے بڑھانا ہے میرے لوگو ہمیں مل کر زمانے کو جھکانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو نہ ہو مایوس دل حالات کی تاریخ راہوں سے امیدوں کو دلوں میں اب جگانا ہے میرے لوگو بدلتی کب ہیں باتوں سے بلا تقدیر قوموں کی ہمیں قدموں کو اب آگے بڑھانا ہے میرے لوگو بڑھانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو فقط گفتار کے غازی نہیں بننا ہے اب ہم کو عمل کی راہ پر سب کو لگانا ہے میرے لوگو دلوں میں نفرتیں کب تک ہمیں بانٹیں گی خانوں میں دلوں سے اب گدورت کو مٹانا ہے میرے لوگو مٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو نہ ہو تقسیم ہم نسلوں زبانوں اور فرقوں میں ہمیں ایک جسم بن کر اب دکھانا ہے میرے لوگو رہیں گے دور کب تک دل ہمیں جڑنا ہی ہوگا اب ہمیں مل کر زمانے کو جھکانا ہے میرے لوگو جھکانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو ہمیں سینہ سپر ہو کر عدو اے دین سے لڑنا ہے علم ہاتھوں میں اب حق کا اٹھانا ہے میرے لوگو اٹھانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو ہماری راہ میں حائل ہیں جو سنگی راہ ہر سو انہیں رستے سے ہر صورت ہٹانا ہے میرے لوگو ہمیں ناموس ملت پر یہ سر اپنے کٹانے ہیں یہ جان و مال زر اپنا لٹانا ہے میرے لوگو لٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو ہمیں بدر و حد کی داستانوں کو ہے دھرانا رہے حق ملہو اپنا بہانا ہے میرے لوگو وفا کی راہ میں چل کر بدن پر زخم کھانے ہیں انہی زخموں کو پھر تمغے بنانا ہے میرے لوگو بنانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو اجاڑا ہے جسے صدیوں سے پت جھڑ کی ہواں نے ہمیں آدم کا وہ گلشن سجانا ہے میرے لوگو خلافت کا حسیم منظر جہانے جو کبھی دیکھا وہی منظر جہاں کو پھر دکھانا ہے میرے لوگو دکھانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو حجازینیں جو بھولا فرض تم کو یاد دلایا ہے ہمیں وہ فرض اب اپنا نبانا ہے میرے لوگو حجازینیں جو بھولا فرض تم کو یاد دلایا ہے ہمیں وہ فرض اب اپنا نبانا ہے میرے لوگو نبانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو شرابوں میں نہو اپنا جلانا ہے میرے لوگو اندھیروں کو بہر صورت مٹانا ہے میرے لوگو