Skip to main content
Tumhe Soye Maqtal Ko Jana Parega cover art

Tumhe Soye Maqtal Ko Jana Parega

by Muaviya Bin Azam

Album: Singles

Duration: 5:14

Genre: nasheed, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu Islamic nasheed performed by Muaviya Bin Azam, built around an exhortation to face sacrifice and the battlefield of martyrdom. Publicly verifiable information about its commissioning, credited writers, and production background is unavailable.

← Browse
Tumhe Soye Maqtal Ko Jana Parega

Tumhe Soye Maqtal Ko Jana Parega

AI-Enriched62%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu Islamic nasheed performed by Muaviya Bin Azam, built around an exhortation to face sacrifice and the battlefield of martyrdom. Publicly verifiable information about its…

Titles in Other Languages

EnglishYou Must Go to the Silent Battlefield

Lyrics

اللہ اللہ اللہ
الجهاد الجهاد الجهاد
تمہیں سوئے مقتل کو جانا پڑے گا
بدن گولیوں سے سجانا پڑے گا
اگر اب سے اپنے محبت سچی
تو سر اس کی راہ میں کٹانا پڑے گا
تمہیں امت مصطفیٰ کے دلوں میں
وہ جذبہ جہادی جگانا پڑے گا
یہ گر مال اور ذر سبھی کچھ اپنا
تمہیں رب کی راہ میں لٹانا پڑے گا
تمہیں رب کی راہ میں لٹانا پڑے گا
تمہیں سوئے مقتل کو جانا پڑے گا
بدن گولیوں سے سجانا پڑے گا
اگر اب سے اپنے محبت سچی
تو سر اس کی راہ میں کٹانا پڑے گا
نرم بستروں کو تمہیں چھوڑ کر
اب فہادوں کو مسکن بنانا پڑے گا
نصا کر تمنا شہادت کی دل میں
تمہیں رب کی راہوں میں آنا پڑے گا
تمہیں رب کی راہوں میں آنا پڑے گا
الجهاد الجهاد الجهاد
نبی کے بتائے گئے راستوں پر
تمہیں چلنا اور پھر چلانا پڑے گا
اگر دے نہیں باطل کو تمہیں شکستہ
تمہیں ایک ہو کر پھر آنا پڑے گا
تمہیں ایک ہو کر پھر آنا پڑے گا
تمہیں سوئے مقتل کو جانا پڑے گا
بدن گولیوں سے سجانا پڑے گا
اگر اب سے اپنے محبت سچی
تو سر اس کی راہ میں کٹانا پڑے گا
تمہیں حق کے غلبے کی خاطر یہ اپنا
لہو بھی خوشی سے بہانا پڑے گا
تڑپتے سسکتے قدس کو بھی اب پھر
تمہیں ظالموں سے چھوڑانا پڑے گا
تمہیں ظالموں سے چھوڑانا پڑے گا
تمہیں سوئے مقتل کو جانا پڑے گا
بدن گولیوں سے سجانا پڑے گا
اگر اب سے اپنے محبت سچی
تو سر اس کی راہ میں کٹانا پڑے گا
جو زندہ سے تم کو ہے دیتے صدای
تمہیں ان کی جانِ دوی جانا پڑے گا
جہاں دیکھو باطل کا تم راجواں پر
تمہیں حق کا پرچم لگانا پڑے گا
تمہیں حق کا پرچم لگانا پڑے گا
الجهاد الجهاد الجهاد
کوئی آزمائش جو اس راہ میں آئے
تو سہل کر اسے مسکرانا پڑے گا
تمہیں راہ حق میں پھرہ بنت ایسا
کڑے سے کڑا زخم کھانا پڑے گا
کڑے سے کڑا زخم کھانا پڑے گا
تمہیں سوئے مقتل کو جانا پڑے گا
بدن گولیوں سے سجانا پڑے گا
اگر اب سے اپنے محبت سچی
تو سر اس کی راہ میں کٹانا پڑے گا