Skip to main content
Aqsa Ka Mujahid cover art

Aqsa Ka Mujahid

by Muaviya Bin Azam

Album: Singles

Duration: 5:27

Genre: nasheed, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

An Urdu nasheed by Muaviya Bin Azam focused on Al-Aqsa and the figure of its mujahid, reflecting themes of Islamic solidarity and Palestinian steadfastness. Publicly available metadata does not clearly identify the lyricist, composer, arranger, production credits, or musical mode.

← Browse
Aqsa Ka Mujahid

Aqsa Ka Mujahid

AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →

Story & Cultural Context

An Urdu nasheed by Muaviya Bin Azam focused on Al-Aqsa and the figure of its mujahid, reflecting themes of Islamic solidarity and Palestinian steadfastness. Publicly available metadata does not…

Titles in Other Languages

EnglishThe Mujahid of Al-Aqsa

Lyrics

لبیک لبیک لبیک لبیک لبیک لبیک یا اقصہ
میری جان امانت ہے تیرے نور وقع کی
اقصہ تیرے ناموس پہ قربان کروں گا
تلوار اٹھاؤں گا یوں میدان میں آ کر
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
لبیک لبیک لبیک لبیک یا اقصہ
صحرا میں بھٹکتا ہوا جاؤں گا وہاں تک
رستے میرے ایمان کی طاقت سے بنیں گے
میں آکے عظیمت سے بھی پرنور رہوں گا
میں بن کے مجاہد تیری پہچان بنوں گا
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
میری جان امانت ہے تیرے نور وقع کی
اقصہ تیرے ناموس پہ قربان کروں گا
تلوار اٹھاؤں گا یوں میدان میں آ کر
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
لبیک لبیک لبیک لبیک یا اقصہ
دکھلاوں گا میدان بسالت میں شجاعت
قرآن ہو ایک ہاتھ میں پرچم میری طاقت
پھر نارائے تکبیر سے کرلوں میں امامت
اللہ شہادت کی طلب لے کے لڑوں گا
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
میری جان امانت ہے تیرے نور وقع کی
اقصہ تیرے ناموس پہ قربان کروں گا
تلوار اٹھاؤں گا یوں میدان میں آ کر
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
لبیک لبیک لبیک لبیک یا اقصہ
رنجیدہ نہ ہو تو کبھی عیر سے فلستی
زندہ ہیں جوامرد یہ بیدار بھی ہوں گے
سینوں میں لیے عزم کی تصویر بنیں گے
بہہ کر کے منظم انہیں الغار کروں گا
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
میری جان امانت ہے تیرے نور وقع کی
اقصہ تیرے ناموس پہ قربان کروں گا
تلوار اٹھاؤں گا یوں میدان میں آ کر
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
لبیک لبیک لبیک لبیک یا اقصہ
قرآن بھی ہے ایک اور کلمہ بھی ہے جب ایک
منزل ہے ہماری تو یہ رستہ بھی کرے ایک
میں عرض مقدس کے فضاؤں کا مجاہد
دشمن کے بڑے نام کو گم نام کروں گا
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
میری جان امانت ہے تیرے نور وقع کی
اقصہ تیرے ناموس پہ قربان کروں گا
تلوار اٹھاؤں گا یوں میدان میں آ کر
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
لبیک لبیک لبیک لبیک یا اقصہ
مظلوم کی آواز میں آواز ملا کر
ایوب کی تاریخ کو دوہرائیں گے پھر سے
میں بن کے جری عزم تی اسلام کا پرچم
اقصہ کی فصیلوں پہ میں لہرا کے رہوں گا
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
میری جان امانت ہے تیرے نور وقع کی
اقصہ تیرے ناموس پہ قربان کروں گا
تلوار اٹھاؤں گا یوں میدان میں آ کر
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
لبیک لبیک لبیک لبیک یا اقصہ
وہ پاک فضاؤں کی وہ نبیوں کی زمیں ہے
آقا کا یہ فرمان ہے وہ حق کی زمیں ہے
وہ عرش سے بخشی ہوئی عزت کی زمیں ہے
میں قبلہ اول کا نگے بان بنوں گا
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
میری جان امانت ہے تیرے نور وقع کی
اقصہ تیرے ناموس پہ قربان کروں گا
تلوار اٹھاؤں گا یوں میدان میں آ کر
اقصہ تیرے دشمن کو میں ناکام کروں گا
لبیک لبیک لبیک لبیک یا اقصہ
لبیک