
Genre: nasheed, ilahi, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
“Aslaf Ka Zamana” is an Urdu Islamic nasheed by Muaviya Bin Azam, reflecting on the era and example of the pious predecessors. Publicly available identification confirms the artist, title, and approximately 8:46 duration, but detailed authorship, production, and musical credits could not be…
← Browse

AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →ilahiIlahi · Turkish ilahiA Turkish devotional hymn, often from the Sufi tradition.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Story & Cultural Context
“Aslaf Ka Zamana” is an Urdu Islamic nasheed by Muaviya Bin Azam, reflecting on the era and example of the pious predecessors. Publicly available identification confirms the artist, title, and…
Titles in Other Languages
EnglishThe Era of the Pious Predecessors
Lyrics
آتا ہے یاد مجھ کو اسلاف کا زمانہ قربانیاں وہ ان کی ہرگز نہ تم بھولانا آتا ہے یاد مجھ کو اسلاف کا زمانہ راہِ وفا پہ چل کر جسموں پہ زخم کھا کر ہاتھوں میں راستی کا پرچم صدا اٹھانا جلنا وہ آزماعش کی آگ میں مسلسل اس آگ میں مگر پھر ان کا وہ مسکرانا قربانیاں وہ ان کی ہرگز نہ تم بھولانا آتا ہے یاد مجھ کو اسلاف کا زمانہ پروانے وہ نبی کی شماں کے وہ دیوانے اس آگ سے لپٹ کر خوش ہو کے جا لٹانا ظالم جو گھر بھی بھرتے ظلم و ستم جو کرتے پھر بھی نہ جابرون کے آگے وہ سر جھکانا قربانیاں وہ ان کی ہرگز نہ تم بھولانا آتا ہے یاد مجھ کو اسلاف کا زمانہ آتا تھا دین پر نازک وقت کبھی بھی ہرگز نہ ڈھونڈنا پھر اس پل کوئی بہانہ آتا ہے یاد مجھ کو اسلاف کا زمانہ ہرگز نہ ڈھونڈنا پھر اس پل کوئی بہانہ دین نبی کی خاطر دنیا سے جنگ لڑنا اس کے لیے سرو کی فصلوں کا وہ کٹانا تعداد میں تھے کم گر جب دشمنوں سے لڑتے قربانیاں وہ ان کی ہرگز نہ تم بھولانا آتا ہے یاد مجھ کو اسلاف کا زمانہ دشمن سے لڑ کے پھر بھی ان کا وہ جیت جانا سیراب کرنا گلشن دین نبی کا خون سے حسن سے کسی کو اپنا خون جگر پلانا سیماف سے صدا ہی وہ دین کے سپاہی قربانیاں وہ ان کی ہرگز نہ تم بھولانا آتا ہے یاد مجھ کو اسلاف کا زمانہ آتا ہے یاد مجھ کو اسلاف کا زمانہ ان کا نہ تھا کبھی بھی کوئی بھی کٹھکانا راتوں میں ان کا اٹھ کے سجدوں میں جا کے رونا رب کے حضور جھک کے ان کا وہ گرگرانا پاکیزگی وہ ان کی قردار کی وہ خشبو قربانیاں وہ ان کی ہرگز نہ تم بھولانا آتا ہے یاد مجھ کو اسلاف کا زمانہ شرم و حیاء سے ان کی نظروں کا وہ چھکانا آنسو ٹپک کے گرتے جذبات تب مچلتے لکھتا ہے جب ہی جازی ان پر کوئی ترانا قربانیاں وہ ان کی ہرگز نہ تم بھولانا آتا ہے یاد مجھ کو اسلاف کا زمانہ آتا ہے یاد مجھ کو اسلاف کا زمانہ