
Genre: nasheed, ilahi, munshidYear: 2026Type: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional kalam performed by Muaviya Bin Azam and presented under the title “Zarb e Momin.” Publicly available metadata identifies the performer and track title, but does not provide verified composer, lyricist, arrangement, instrumentation, or maqam credits.
← Browse

AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →ilahiIlahi · Turkish ilahiA Turkish devotional hymn, often from the Sufi tradition.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional kalam performed by Muaviya Bin Azam and presented under the title “Zarb e Momin.” Publicly available metadata identifies the performer and track title, but does…
Titles in Other Languages
EnglishSuperhit Kalam 2026 | Zarb-e-Momin
Lyrics
اللہ کا شیر مرد میدان وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی عدو کے لیے ہے سراسر تباہی وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی عدو کے لیے ہے سراسر تباہی سر مقتل آیا ہے بن کر وہ توبا وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان اٹھا ہے جو بن کر وہ قہر الٰہی مٹانے چلا کفر کی سب سیاہی عدو کے سفینوں کو غرقاب کر دے وہ توبا جو بحر کو بیاو کر دے وہ زرب زرب شدید مجاہد بنے گی جو باطل پہ سرسر کی شاہد وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی عدو کے لیے ہے سراسر تباہی سر مقتل آیا ہے بن کر وہ توبا وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان وہ خالد کی حیبت وہ حیدر کا دیشہ شجاعت ہے فطرت شہادت ہے پیشا وہ شاہی نے دریا وہ شیرے بیاوا پلٹ دے جو رکھ بن کے کفر کا توبا صفیت شیرتا ہے وہ شیر جریع عدو کے لیے ہے وہ تیرے علیہ وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی عدو کے لیے ہے سراسر تباہی سر مقتل آیا ہے بن کر وہ توبا وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان وہ مظلوم کی ڈھال ظالم کا دشمن وہ حق کا اجالہ وہ باطل کا مدفن وہ اللہ کی تیزے جگردار بن کر مٹائے گا باطل کا ہر ایک لشکر نشان خلافت وہ پھر سے سجائے جو سوئی ہوئی ہے وہ غیرت جگائے وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی عدو کے لیے ہے سراسر تباہی سر مقتل آیا ہے بن کر وہ توبا وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان نہ غم ہے نہ در ہے نہ کوئی ملالت شجاعت ہے اس کی سراسر کمال یہی ہے تمنا یہی ہے ارادہ رہے حق میں کٹنا رہے حق میں مرد جہاں میں خلافت کی بنیاد رکھ دے عدو کے مقابل وہ فولاد رکھ دے وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی عدو کے لیے ہے سراسر تباہی سر مقتل آیا ہے بن کر وہ توبا وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان