Skip to main content
Zarb e Momin cover art

Zarb e Momin

by Muaviya Bin Azam

Album: Singles

Duration: 3:55

Genre: nasheed, ilahi, munshidYear: 2026Type: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu devotional kalam performed by Muaviya Bin Azam and presented under the title “Zarb e Momin.” Publicly available metadata identifies the performer and track title, but does not provide verified composer, lyricist, arrangement, instrumentation, or maqam credits.

← Browse
Zarb e Momin

Zarb e Momin

Singles 3:55 2026
AI-Enriched85%
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung a cappella or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →ilahiIlahi · Turkish ilahiA Turkish devotional hymn, often from the Sufi tradition.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu devotional kalam performed by Muaviya Bin Azam and presented under the title “Zarb e Momin.” Publicly available metadata identifies the performer and track title, but does…

Titles in Other Languages

EnglishSuperhit Kalam 2026 | Zarb-e-Momin

Lyrics

اللہ کا شیر مرد میدان
وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان
وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی
عدو کے لیے ہے سراسر تباہی
وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی
عدو کے لیے ہے سراسر تباہی
سر مقتل آیا ہے بن کر وہ توبا
وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان
اٹھا ہے جو بن کر وہ قہر الٰہی
مٹانے چلا کفر کی سب سیاہی
عدو کے سفینوں کو غرقاب کر دے
وہ توبا جو بحر کو بیاو کر دے
وہ زرب زرب شدید مجاہد
بنے گی جو باطل پہ سرسر کی شاہد
وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی
عدو کے لیے ہے سراسر تباہی
سر مقتل آیا ہے بن کر وہ توبا
وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان
وہ خالد کی حیبت وہ حیدر کا دیشہ
شجاعت ہے فطرت شہادت ہے پیشا
وہ شاہی نے دریا وہ شیرے بیاوا
پلٹ دے جو رکھ بن کے کفر کا توبا
صفیت شیرتا ہے وہ شیر جریع
عدو کے لیے ہے وہ تیرے علیہ
وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی
عدو کے لیے ہے سراسر تباہی
سر مقتل آیا ہے بن کر وہ توبا
وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان
وہ مظلوم کی ڈھال ظالم کا دشمن
وہ حق کا اجالہ وہ باطل کا مدفن
وہ اللہ کی تیزے جگردار بن کر
مٹائے گا باطل کا ہر ایک لشکر
نشان خلافت وہ پھر سے سجائے
جو سوئی ہوئی ہے وہ غیرت جگائے
وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی
عدو کے لیے ہے سراسر تباہی
سر مقتل آیا ہے بن کر وہ توبا
وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان
نہ غم ہے نہ در ہے نہ کوئی ملالت
شجاعت ہے اس کی سراسر کمال
یہی ہے تمنا یہی ہے ارادہ
رہے حق میں کٹنا رہے حق میں مرد
جہاں میں خلافت کی بنیاد رکھ دے
عدو کے مقابل وہ فولاد رکھ دے
وہ حق کا مجاہد وہ دین کا سپاہی
عدو کے لیے ہے سراسر تباہی
سر مقتل آیا ہے بن کر وہ توبا
وہ اللہ کا شیر وہ مرد میدان