
Genre: nasheed, madih, munshidYear: 2024Type: nasheed
Story & Cultural Context
A devotional manqabat by Pakistani naat and nasheed vocalist Farhan Ali Qadri expressing love and reverence for Hussain ibn Ali. The track appears to be part of his 2024 devotional output and is presented as a full-length vocal performance.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
A devotional manqabat by Pakistani naat and nasheed vocalist Farhan Ali Qadri expressing love and reverence for Hussain ibn Ali. The track appears to be part of his 2024 devotional output and is…
Titles in Other Languages
العربيةمحبت حسین کی
EnglishThe Love of Hussain
Lyrics
مولا حسین مولا حسین مولا حسین مولا حسین اللہ کی رضا محبت حسین کی محبت حسین کی لکھتا ہوں نے دل سے شہادت حسین کی شہادت حسین کی یا حسین ابن علی جب کربلا میں آئے تو لعرے بطول کے شیر خدا کے لال نواز رسول کے چاروں طرف سے گھیر لیا فوج شام نے یہ ظلم سے یہ دھوپ کیا فوج شام نے ایک زخم دل پہ اور بھی گہرا لگا دیا دریا پہ بھی لہینوں نے پہرا لگا دیا یا حسین ابن علی جب کربلا میں آئے تو لعرے بطول کے شیر خدا کے لال نواز رسول کے چاروں طرف سے گھیر لیا فوج شام نے یہ ظلم سے یہ دھوپ کیا فوج شام نے ایک زخم دل پہ اور بھی گہرا لگا دیا دریا پہ بھی لہینوں نے پہرا لگا دیا پیارے حسین تجھ پہ یہ بچے نسار ہیں یا حسین ابن علی زینب کی بات سن کے شہر دین رو دیئے جیسے کسی نے روح میں نشتر چبو دیئے فرمایا جا اور ان کی اجازت بھی ہم نے دی ان کو شہید ہونے کی عزت بھی ہم نے دی زینب تمہارے لادلوں میں نہ جائیں گے یہ لال ہم سے پہلے ہی جنت میں جائیں گے شبیر اتنا کہہ کے پریشان ہو گئے آنو محمد آپ پہ قربان ہو گئے زینب تمہارے لادلوں میں نہ جائیں گے یہ لال ہم سے پہلے ہی جنت میں جائیں گے یا حسین ابن علی اصغر علی بھی راہ باغ ارم ہوئے اباز کے بھی نہر پہ بازو کلم ہوئے قاسم کا سینہ چھد گیا اکبر ہوئے شہید راہ خدا میں سب ہی دلاور ہوئے شہید سارا کا سبر چھن گیا ہے در کا گھر لٹا افسوس کربلا میں پیغمبر کا گھر لٹا یا حسین ابن علی ایک درد سے امام کا چہرہ اداس ہے محسوس ہو رہا ہے کہ کعبہ اداس ہے بچوں کا دکھ ہے سینے میں فکر غرم بھی ہے اور اس کے ساتھ نانا کی امت کا غم بھی ہے شیر خدا کے شیر کی حالت عجیب ہے وہ خوب جانتے ہیں شہادت قریب ہے یا حسین ابن علی بیمار نور نگاہل کو بستر پہ چھوڑ کر شابیر رن میں چل دیئے گھوڑے کو موڑ کر سینے میں اپنے جذبہ ایمان لیے ہوئے نکلے لب پہ آیت قرآن لیے ہوئے جی جان بھی عزیز نہ راحت عزیز تھی ان کو تو کربلا میں شہادت عزیز تھی یا حسین ابن علی دریا پہ آ جو فوج کا پیاسے کو دیکھ کر سب کاف اٹھے نبی کے نواسے کو دیکھ کر تیروں تلوار برسن لگے شاہ دین پر خون حسین گرنے لگا جب زمین پر اس خون کو پھر اس تو نے دامن میں لے لیا اک خون کو بھی ریت پہ گرنے نہیں دیا یا حسین ابن علی زخموں سے چور ہو گیا جو مرتضی کالا سجدے میں سر جھکا کے کہا رب زلجلا اے حق سائے میں میرا سجدہ قبول کر یہ آخری نماز ہے مولا قبول کر اس قرب پورا ہو گیا تقدیر کا لکھا سوکھی گلے پہ چل گیا خنجر لائین کا امت کو یوں بچایا شرے بے مثال نے سجدے میں سر کٹا دیا زہرہ کے لال نے یا حسین ابن علی مولا حسین مولا حسین