Skip to main content
Ek Yazeed Tha Hussain a.s Hai cover art

Ek Yazeed Tha Hussain a.s Hai

by Yashfeen Ajmal Shaikh

Album: Nasheeds

Duration: 5:59

Genre: nasheed, madih, munshidYear: 2020Type: nasheed

Story & Cultural Context

A devotional Urdu nasheed centered on the contrast between Yazid and Imam Hussain (a.s.), expressing reverence for Hussain’s enduring spiritual legacy. It is associated with Shia Islamic devotional remembrance, but a specific official occasion or commissioning context could not be verified.

← Browse
Ek Yazeed Tha Hussain a.s Hai

Ek Yazeed Tha Hussain a.s Hai

Nasheeds 5:59 2020
AI-Enriched85%
Instruments
vocal-only

Credits

LabelWithout label

Story & Cultural Context

A devotional Urdu nasheed centered on the contrast between Yazid and Imam Hussain (a.s.), expressing reverence for Hussain’s enduring spiritual legacy. It is associated with Shia Islamic devotional…

Titles in Other Languages

EnglishThere Was a Yazid; Hussain Is

Lyrics

يا حسين يا حسين يا حسين يا حسين صدقار حسين لجپال حسين صدقار حسين لجپال حسين صدقار حسين لجپال حسين یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے کیا بتاؤں کیا حسین ہے میرا مدعا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے بات ہے بس تیری بوم کا تری ایک یہ دید تھا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے مرسا کے نام کے نبزے حیات چلتی ہے زمین کا ذکر ہی کیا کائنات چلتی ہے یہ بات سہنے میں لگی ہے کہ جبر کے آگے اگر حسین کھڑا ہے تو بات چلتی ہے ایک یہ دید تھا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ دید نقشت جو روجا پاہ بناتا ہے حسین رسم حق کر بلا بناتا ہے یہ دید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سے حسین خود نگی برتا خدا بناتا ہے ایک یہ دید تھا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے مرتضیٰ کا ہے وہ شاہکار آلِ مصطفیٰ حسین ہے آلِ مصطفیٰ حسین ہے آست حسین بادشاہ آست حسین دی آست حسین دی پناہ آست حسین سرداد ندد دست یزید حق دا کی بنا ایک لا الہ آست حسین یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے حیدر کی خاک پارو کے ماں پر لگی ہوئی ان کی لگن ہے دل کو برابر لگی ہوئی میرا کفن ہتار عدب سے وہاں ہوا ہر ساتے لطفِ مات کی جالے لگی ہوئی زارہ حسین اور حسن کا گلاب ہو میری کی مہر ہے مجھ پر لگی ہوئی کر نہ لے نبی کے گھرئیے اسے ہوش کہیں دو رکب دوکتی گئے دو تل لگی ہوئی آلِ مصطفیٰ حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے کر بلا میں آخری نماز دھر گیا عداو حسین ہے مٹی میں مل گئے ارادے یزید کے میرا رضا ہے آدمی پرچم حسین کا دھر گیا عداو حسین ہے دھر گیا عداو حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے عرب و قاب کی ہیں جنتیں عرب و قاب کی رگنکیں کیونکہ آپ کا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے یہ نہ پوچھ کیا حسین ہے فضلِ کبریا حسین ہے