
Genre: nasheed, naat, qasida, madih, munshidYear: 2024Type: nasheed
Story & Cultural Context
A devotional Urdu naat/qawwali by Yashfeen Ajmal Shaikh centered on the significance of Shab-e-Meraj and praise of the Prophet Muhammad. The phrase “Zara Arsh-e-Bari” refers to the heavenly and exalted imagery associated with the Mi'raj narrative.
← Browse

About this recordingAuto-generated
Genre
OccasionIsra and Mi'rajnasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung by voice or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →naatNaat · Urdu / Persian نعتUrdu or Persian poetry in praise of the Prophet ﷺ, usually sung without instruments.Browse →Glossary →qasidaQasida · Arabic قصيدةA long classical Arabic poem; in devotional music, one sung in praise or supplication (e.g. the Burdah).Browse →Glossary →madihMadih · Arabic مديحPraise poetry sung for the Prophet Muhammad ﷺ.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Story & Cultural Context
A devotional Urdu naat/qawwali by Yashfeen Ajmal Shaikh centered on the significance of Shab-e-Meraj and praise of the Prophet Muhammad. The phrase “Zara Arsh-e-Bari” refers to the heavenly and…
Titles in Other Languages
العربيةذرا عرشِ باری
EnglishO, Visit the Divine Throne
Lyrics
آئینہ دیکھا تو کیا خوب نظارہ دیکھا نور پہ نور پہ کیا خوب سمارہ دیکھا شاہدِ عشق بھی یارہ دیکھا حقیقت کوئی آئینہ پھر سے ذرا کر کے دوبارہ دیکھا ذرا رُشِ بری پر چلیے دیکھنے صاحبِ بطا کی ذات ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے ذرا رُشِ بری پر چلیے دیکھنے صاحبِ بطا کی ذات ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے صدقے راسے آگے میں ساتھ جو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا حد میری موجود کو آپا بے حد ساتھ کبھی نہیں ہو سکتا میری حد آپ کا باز ہے نور کے ساتھ کیا میرا ساتھ ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے ذرا رُشِ بری پر چلیے دیکھنے صاحبِ بطا کی ذات ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے ادھر حبیب کو چل ویدھ کھائے جاتے ہیں ادھر کے پتھر بلائے جاتے ہیں ساتھ کے راستے سجائے جاتے ہیں ادھر کے درب محمد بلائے جاتے ہیں ذرا رُشِ بری پر چلیے دیکھنے صاحبِ بطا کی ذات ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے یا نبی التجبی آنکھوں مولا کر جاؤ آقا پردے میں میرا پردا جلا کر جاؤ میرے دل جو ہمارا کا مہتبہ دے جاؤ میرا نبی بن محمد مجھے لہا کر جاؤ ذرا رُشِ بری پر چلیے دیکھنے صاحبِ بطا کی ذات ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے آجا آجا آجا آجا آجا ماجون سے پردہ پاک دے آجا آجا آجا آجا آجا مجھے رُشِ بری پر چلیے دیکھنے صاحبِ بطا کی ذات ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے آئینہ بنا کر بدن آدم کا خدا نے خود سے اٹھایا ہے اپنا آدم کا ذرا رُشِ بری پر چلیے دیکھنے صاحبِ بطا کی ذات ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے مجھ میں تو بچنے بچ ملا ایک بھی آقا اِسے پردے رات نہ کھوئی آپ اُس کے لیکن پردہ زدہ تو اوروں کے بوسے تو تھا نہ ہی محمد ہے بسائی آپ اُس کی جو حسن وہ خدا کی ذات ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے ذرا رُشِ بری پر چلیے دیکھنے صاحبِ بطا کی ذات ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے اب تو یہ تو جبریلے پھیا آجا نور کے وہ ملاقات ہے اے فتاہہ پُتھ میرے پرتا لے دو راستے کی باتیں ہیں دون مہمان بان مہمبان ہے بس خود سے ہوئی ملاقات ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے ذرا رُشِ بری پر چلیے دیکھنے صاحبِ بطا کی ذات ہے جہاں حد کا ہے ہاتھ ماں یا محمد وہاں ملاقات ہے یا محمد وہاں ملاقات ہے