
Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2023Type: nasheed
Story & Cultural Context
This is a devotional naat praising Muhammad Mustafa, the Islamic honorific name for the Prophet Muhammad. The listing identifies Hassan Shahid in connection with the performance, but publicly available metadata does not provide verified composer, lyricist, arrangement, or instrumentation credits.
← Browse

AI-Enriched85%
Featured Artists
Hassan Shahid
Story & Cultural Context
This is a devotional naat praising Muhammad Mustafa, the Islamic honorific name for the Prophet Muhammad. The listing identifies Hassan Shahid in connection with the performance, but publicly…
Titles in Other Languages
العربيةمحمد مصطفى
EnglishMuhammad Mustafa
TürkçeMuhammed Mustafa
Lyrics
مصطفیٰ مصطفیٰ میرے آقا میرے آقا میرے آقا میرے آقا رسول سے مصطفیٰ کے یہ محمد مصطفیٰ کے یہ خدا کے بعد بس وہ ہیں پھر سچے سے بات کیا کہیے شریعت کا ہے یہ اسرار ختم الانبیاء کے یہ محبت کا تقاضی ہے کہ محبوب بے خدا کے یہ رسول سے مصطفیٰ کے یہ محمد مصطفیٰ کے یہ خدا کے بعد بس وہ ہیں پھر سچے سے بات کیا کہیے جب ہی ہے رخ محمد کے تجلی ہی تجلی ہے کسے شمس و زہا کے یہ کسے فضل دو جا کے یہ رسول سے مصطفیٰ کے یہ محمد مصطفیٰ کے یہ خدا کے بعد بس وہ ہیں پھر سچے سے بات کیا کہیے شہر سارے دو عالم کے روح پر انوار کا عالم کیا ہوگا جب زلف کا ذکر ہے قرآن میں رخصار کا عالم کیا ہوگا میراج کشب شب اللہ نے محبوب اپنے کو بلوایا سوچو تو سہی ان دونوں کی گفتار کا عالم کیا ہوگا جب ان کا ذکر ہو دنیا سراپا گوشت ہو جائے جب ان کا نام آئے مرحبہ اصل آئے یہی ہے رسول سے مصطفیٰ کے یہ محمد مصطفیٰ کے یہ خدا کے بعد بس وہ ہیں پھر سچے سے بات کیا کہیے یہ کیسا ظرف ہے کہ زخم کھا کر پھول برسائے کوئی ہے جس نے سنگر گالیاں دیں وہ دعا کے یہ رسول سے مصطفیٰ کے یہ محمد مصطفیٰ کے یہ خدا کے بعد بس وہ ہیں پھر سچے سے بات کیا کہیے بکر عمر اسمان والی اور سارے صحابہ دوزانو جب بیٹھتے ہوں گے مجلس میں دربار کا عالم کیا ہوگا کھائی ہے قسم خود قرآن اصحاب کے نور تے گھوڑوں کی اصحاب کا جب یہ عالم ہے سرکار کا عالم کیا ہوگا مبارک راہ طیبہ سرمائے چشم بصیرت ہے یہی وہ خاک ہے جس خاک کو خاک شفاق ہے یہی رسول سے مصطفیٰ کے یہ محمد مصطفیٰ کے یہ خدا کے بعد بس وہ ہیں پھر سچے سے بات کیا کہیے مدینہ یاد آتا ہے تو پھر آسو نہیں رکھتے مدینہ یاد آتا ہے تو پھر آسو نہیں رکھتے میری آنکھوں کو ماہے چشمہ آب بقا کے یہ رسول سے مصطفیٰ کے یہ محمد مصطفیٰ کے یہ خدا کے بعد بس وہ ہیں پھر سچے سے بات کیا کہیے میرے آقا میرے آقا میرے آقا میرے آقا