Skip to main content
Wo Aaj Phir Yaad Aa Raha Hai cover art

Wo Aaj Phir Yaad Aa Raha Hai

by Merciful Nasheeds

Album: Nasheeds

Duration: 5:28

Genre: nasheed, munshidYear: 2022Type: nasheed

Story & Cultural Context

This is an Urdu emotional nasheed presented by Merciful Nasheeds and credited in the title to Abdul Waheed Ahsan and Nasheed Club. The available title metadata identifies it as a 2022 release, but does not establish the subject, melody origin, detailed credits, or production background.

← Browse
Wo Aaj Phir Yaad Aa Raha Hai

Wo Aaj Phir Yaad Aa Raha Hai

Nasheeds 5:28 2022
AI-Enriched95%

Story & Cultural Context

This is an Urdu emotional nasheed presented by Merciful Nasheeds and credited in the title to Abdul Waheed Ahsan and Nasheed Club. The available title metadata identifies it as a 2022 release, but…

Titles in Other Languages

العربيةوہ آج پھر یاد آ رہا ہے
EnglishHe Is Being Remembered Again Today

Lyrics

وفا کی رسمیں نبھا رہے ہیں
وہ آج پھر یاد آ رہے ہیں

جو درد امت میں میرے بھائی
وفا کی رسمیں نبھا رہے ہیں
جو جان دے کر امر ہوئے ہیں
وہ آج پھر یاد آ رہے ہیں

حسین اتنے کہ دیکھنے کو ترستی ہیں آج پھر نگاہیں
کمال رکھتے تھے گفتگوں میں وہ یاد آتی ہیں سب صدائیں
وہ راستائے ہمیں دکھا کر خنسو جنت بھلا رہے ہیں
جو درد امت میں میرے بھائی
وفا کی رسمیں نبھا رہے ہیں
جو جان دے کر امر ہوئے ہیں
وہ آج پھر یاد آ رہے ہیں

ابھی تو ان کی ضرورتیں سہارا تھے بھوڑے باپ کا وہ
بیمار ماں بھی تو منتظرتی کے سر پہ سہرہ سجائیں گے
وہ صدائے مقتل پہ سر کٹا کر وہ سارے اب مسکرا رہے ہیں
جو درد امت میں میرے بھائی
وفا کی رسمیں نبھا رہے ہیں
جو جان دے کر امر ہوئے ہیں
وہ آج پھر یاد آ رہے ہیں

وہ چوٹیوں پر سے چرکے جانا مقابلوں میں وہ مسکرانا
وہ گولیاں سینوں پر ہی کھانا شہادتوں کو گلے لگانا
وہ ساتھیوں کو بچا بچا کر بھارود میں خود نہا رہے ہیں
جو درد امت میں میرے بھائی
وفا کی رسمیں نبھا رہے ہیں
جو جان دے کر امر ہوئے ہیں
وہ آج پھر یاد آ رہے ہیں

جوانیوں کے حسین لمبے خدا کی رہ میں بسر کیے ہیں
عباقیوں کے چراغ اپنے ہی سینوں میں بس دفن کیے ہیں
وہ حور و غلمان اور فرشتے سلام ان کو سنا رہے ہیں
جو درد امت میں میرے بھائی
وفا کی رسمیں نبھا رہے ہیں
جو جان دے کر امر ہوئے ہیں
وہ آج پھر یاد آ رہے ہیں

اداس رسطوں پہ چل کے تم نے زمانے کو یہ بتا دیا ہے
بدر او خد قادسیہ جیسے میدانوں کو بھی سجا دیا ہے
غلام آقا کے تم ہی ہو بس لہو کے کترے بتا رہے ہیں
جو درد امت میں میرے بھائی
وفا کی رسمیں نبھا رہے ہیں
جو جان دے کر امر ہوئے ہیں
وہ آج پھر یاد آ رہے ہیں

تمہاری ماںوں کے حوصلوں کو تو دیکھ کر میں حیران ہوا خود
وہ خنسا جیسے ہی جذبے پھر دیکھ کر تو میں شادماں ہوا خود
مرے نہیں کے صدا ہے زندہ قرآن کے پہرے بتا رہے ہیں
جو درد امت میں میرے بھائی
وفا کی رسمیں نبھا رہے ہیں
جو جان دے کر امر ہوئے ہیں
وہ آج پھر یاد آ رہے ہیں
وہ آج پھر یاد آ رہے ہیں