Skip to main content
Kia Hal Sunain Dunya Ka cover art

Kia Hal Sunain Dunya Ka

by Merciful Nasheeds

Album: Nasheeds

Duration: 6:26

Genre: nasheed, munshidYear: 2023Type: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be an emotional Urdu nasheed reflecting on the troubled condition of the world. Publicly identifiable information confirms the performer and track title, but does not provide reliable composer, lyricist, arrangement, or production credits.

← Browse
Kia Hal Sunain Dunya Ka

Kia Hal Sunain Dunya Ka

Nasheeds 6:26 2023
AI-Enriched85%

Story & Cultural Context

This appears to be an emotional Urdu nasheed reflecting on the troubled condition of the world. Publicly identifiable information confirms the performer and track title, but does not provide reliable…

Titles in Other Languages

EnglishWhat Can We Say About the State of the World?

Lyrics

کیا حال سنائے دنیا کا
کیا حال سنائے دنیا کا
کیا حال سنائے دنیا کا
کیا بات بتائے لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہے
لاکھوں بھی ادائے لوگوں کی
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں
دنیا کو سنانے کے قابل
کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں
بس دل میں چھپانے کے قابل
کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں
اک بار گئے تو آتے نہیں
ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں
پرچھائی بھی ان کی پاتے نہیں
کچھ لوگ خیالوں کے اندر
جذبو کی روانی ہوتے ہیں
کچھ لوگ کھٹن لمحوں کی طرح
پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں
کیا حال سنائے دنیا کا
کیا بات بتائے لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہے
لاکھوں بھی ادائے لوگوں کی
کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں
کچھ لوگ کنارہ ہوتے ہیں
کچھ ڈوبنے والی جانوں کو
تنکے کا سہارہ ہوتے ہیں
کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ
کچھ رت گرم دا چھوٹا سا
کچھ لوگ مثال ابر رواں
کچھ اونچ درختوں کا سایا
کچھ لوگ چراغوں کی صورت
راہوں میں اجالہ کرتے ہیں
کچھ لوگ اندھیرے کی کالک
چہرے پہ اچھالہ کرتے ہیں
کیا حال سنائے دنیا کا
کیا بات بتائے لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہے
لاکھوں بھی ادائے لوگوں کی
کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں
دو گام چلے اور رستے الگ
کچھ لوگ نباتے ہیں ایسا
ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ
کیا حال سنائے اپنا تمہیں
کیا بات بتائے جیون کی
اک آنکھ ہماری ہستی ہے
اک آنکھ میں رتھ ہے ساون کی
ہم کس کی کہانی کا حصہ
ہم کس کی دعا میں شامل ہے
ہے کون جو رستہ تک تا ہے
ہم کس کے وفا کا حاصل ہے
کیا حال سنائے دنیا کا
کیا بات بتائے لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہے
لاکھوں بھی ادائے لوگوں کی
کس کس کا پکڑ کر دامن ہم
اپنی ہی نشانی کو پوچھے
ہم کھوے گئے کن راہوں میں
اس بات کو صاحب جانے دے
کچھ درد سنبھالے سینے میں
کچھ خواب لٹائے ہم نے
اک عمر گواہی ہے اپنی
کچھ لوگ کمائے ہم نے
دل ہر چکیا ہے لوگوں پر
جا کوئی ہے الغم پایا ہے
اپنا تو یہی ہے سو دوسریا
اپنا تو یہی سرمایا ہے
کیا حال سنائے دنیا کا
کیا بات بتائے لوگوں کی
دنیا کے ہزاروں موسم ہے
لاکھوں بھی ادائے لوگوں کی
کیا حال سنائے دنیا کا