
Genre: nasheed, munshidYear: 2023Type: nasheed
Story & Cultural Context
An emotional Urdu nasheed reflecting on the condition of the world, credited to Atiq Ur Rehman and presented through Merciful Nasheeds in collaboration with Nasheed Club. Available metadata identifies it as a 2023 nasheed, but does not provide verified details about its composition, arrangement, or…
← Browse

AI-Enriched95%
Credits
LyricistAtiq Ur Rehman
LabelWithout label
Story & Cultural Context
An emotional Urdu nasheed reflecting on the condition of the world, credited to Atiq Ur Rehman and presented through Merciful Nasheeds in collaboration with Nasheed Club. Available metadata identifies…
Titles in Other Languages
EnglishWhat Can We Say About the State of the World?
Lyrics
کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں دنیا کو سنانے کے قابل کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں بس دل میں چھپانے کے قابل کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں ایک بار گئے تو آتے نہیں ہم لاکھ بھولانا بھی چاہے پرچھائی بھی ان کی پاتے نہیں کیا حال سنائے دنیا کا کیا بات بتائے لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہی ادائے لوگوں کی کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں وہ کام چلے رہستے الگ کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ کیا حال سنائے اپنا تمہیں کیا بات بتائے جیون کی ایک آنکھ ہماری ہستی ہے ایک آنکھ میں رُتھ ہے ساون کی ہم کس کی کہانی کا حصہ ہم کس کی دعا میں شامل ہیں ہے کون جو راستہ تک تاہے ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں کیا حال سنائے دنیا کا کیا بات بتائے لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہی ادائے لوگوں کی کچھ لوگ سیاروں کے اندر جذبوں کی روانی ہوتے ہیں کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں کچھ لوگ کنارہ ہوتے ہیں کچھ ڈوبنے والی جانوں کو تنکے کا سہارا ہوتے ہیں کیا حال سنائے دنیا کا کیا بات بتائے لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہی ادائے لوگوں کی کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ کچھ ریت گھروں کا چھوٹا سا کچھ لوگ مثالِ حپر رواں کچھ اونچے درختوں کا سا آیا کچھ لوگ چراغوں کی صورت راہوں میں اجالا کرتے ہیں کچھ لوگ اندھیرے کی کالک چہروں پہ اچھالا کرتے ہیں کیا حال سنائے دنیا کا کیا بات بتائے لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہی ادائے لوگوں کی ہم کو ایکے کن راہوں میں اس بات کو صاحب جانے دے کچھ درد سنبھالے سینے میں کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے اک عمر گواہی ہے اپنی دل خرچ کیا ہے لوگوں پر جاں کھوئی ہے غم کو پایا ہے اپنا تو یہی ہے سو بوسیاں اپنا تو یہی سرمایا ہے کیا حال سنائے دنیا کا کیا بات بتائے لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہی ادائے لوگوں کی کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں دنیا کو سنانے کے قابل کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں بس دل میں چھپانے کے قابل کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں ایک بار گئے تو آتے نہیں ہم لاکھ بھولانا بھی چاہے پرچھائی بھی ان کی پاتے نہیں کیا حال سنائے دنیا کا کیا بات بتائے لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہے لاکھوں ہی ادائے لوگوں کی