Skip to main content
Tearful Emotional Dua Nasheed - Kahkashaon Ka Khuda - Sun Lay Sargoshiyan cover art

Tearful Emotional Dua Nasheed - Kahkashaon Ka Khuda - Sun Lay Sargoshiyan

by Merciful Nasheeds

Album: Nasheeds

Duration: 7:41

← Browse
Tearful Emotional Dua Nasheed - Kahkashaon Ka Khuda - Sun Lay Sargoshiyan

Tearful Emotional Dua Nasheed - Kahkashaon Ka Khuda - Sun Lay Sargoshiyan

Lyrics

مولا مولا مولا سن لے سرگوشیاں آہیں مظلوم کی ماںوں کی سسکیاں کہہ کشاؤں کے خدا سن لے میری سرگوشیاں عشق خون سے بھر چکا امت کا ورق داستان کہہ کشاؤں کے خدا سن لے میری سرگوشیاں عشق خون سے بھر چکا امت کا ورق داستان تن جائے اغیار میں اپنوں کے قلب و جگر نہ کوئی ہمدرد آیا نہ ہی کوئی چارگر ہو رہے محروم چادر سے ادھر بہنوں کے سر کٹ رہے ہیں اس طرف معصوم ماںوں کے جگر چور ہے زخموں سے امت دور مرہم ہے مگر جائے کس کے پاس لے کر آج ہم اپنی فغاں کہہ کشاؤں کے خدا سن لے میری سرگوشیاں عشق خون سے بھر چکا امت کا ورق داستان ارہم ارہم یا مولا ارہم ارہم یا مولا تی زمیں پر تلج رشک آسمان اب ہے کہاں وہ میرے اسلاف کی ایک داستان اب ہے کہاں میرے جاوازوں کے قدموں کے نشان اب ہے کہاں جو تلیس میں کفر توڑے وہ حساب ہے کہاں جو طفان درد موڑے وہ چٹان اب ہے کہاں وہ صلاح الدین کی تی یہ نہاب ہے کہاں کہہ کشاؤں کے خدا سن لے میری سرگوشیاں عشق خون سے بھر چکا امت کا ورق داستان یا رب والا ارہم لنا یا رب والا ارہم لنا میرے مولا درد کی تصقیق کا ساما بھیج دے ماں و بہنوں کا محافظ فرن کے بامیں جدے جس خضا کے دشت میں عبر بہارا بھیج دے جو کرے پھر سے ترق تاذہ تینوں جان بھیج دے قبلہِ اول کی خاطر ایک نگے باں بھیج دے جس کے قدموں میں ہے سرفتن عظمتوں کا ایک جہان جس کے قدموں میں ہے سرفتن عظمتوں کا ایک جہان کہہ کشاؤں کے خدا سن لے میری سرگوشیاں عشق خون سے بھر چکا امت کا ورق داستان ارہم ارہم یا مولا تی زمین پر تلج رشک آسمان اب ہے کہاں وہ میرے اسلاف کی ایک داستان اب ہے کہاں میرے جاوازوں کے قدموں کے نشان اب ہے کہاں جو تلیس میں کفر توڑے وہ حساب ہے کہاں جو توفان درد موڑے وہ چٹان اب ہے کہاں وہ صلاح الدین کی تیج ہے کہاں کہہ کشاؤں کے خدا سن لے میری سرگوشیاں عشق خون سے بھر چکا امت کا ورق داستان یا رب والا ارہم لنا میرے مولا درد کی تصقیق کا ساما بھیج دے ماں و بہنوں کا محافظ فرن کے بامیں جدے جس خضا کے دشت میں عبر بہارا بھیج دے جو کرے پھر سے ترق تاذہ تینوں جان بھیج دے قبلہِ اول کی خاطر ایک نگے باں بھیج دے جس کے قدموں میں ہے سرفتن عظمتوں کا ایک جہان کہہ کشاؤں کے خدا سن لے میری سرگوشیاں عشق خون سے بھر چکا امت کا ورق داستان یا رب والا ارہم لنا مولا مولا مولا سن لے سرگوشیاں آہے مظلوم کی ماںوں کی سسکیاں