
Genre: nasheed, hamd, munshidYear: 2024Type: nasheed
Story & Cultural Context
This track is presented as a contemporary Urdu hamd praising Allah, released under the Merciful Nasheeds name. The available title identifies it as a 2024 version of “Hum Ne Tujhe Jana Hai,” but detailed authorship, arrangement, and production credits are not publicly confirmed.
← Browse

AI-Enriched90%
Story & Cultural Context
This track is presented as a contemporary Urdu hamd praising Allah, released under the Merciful Nasheeds name. The available title identifies it as a 2024 version of “Hum Ne Tujhe Jana Hai,” but…
Titles in Other Languages
العربيةہم نے تجھے جانا ہے
EnglishWe Have Known You
Lyrics
اللہ میرے اللہ اللہ میرے اللہ اللہ میرے اللہ اللہ میرے اللہ ہم نے تجھے جانا ہے فقر تیری عطا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے جنگل کی خموشی سے پہاڑوں کی انا سے پرحول سمندر سے پرسرار گھٹا سے بجلی کے چمکنے سے کڑکنے کی صدا سے مٹی کے خزانوں سے اناجوں سے غذا سے برسات سے توفان سے پانی سے ہوا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ہم نے تجھے جانا ہے فقر تیری عطا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے گلشن کی بہاروں سے تو کلیوں کی حیا سے محسوم سے روتی ہوئی شبنم کی ادا سے لہراتی ہوئی بات سہربات صبا سے ہر رنگ کے ہر شان کے پھولوں کی قباصے چڑیوں کے چہکنے سے تو بلبل کی نوا سے موٹی کی نذاکت سے تو گیرے کی جلا سے ہر شے کے جھلکنے ہوئے فن اور کلا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ہم نے تجھے جانا ہے فقر تیری عطا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے دنیا کے حوادث سے وفاؤں سے جفا سے رنجو غم آلام سے دردوں سے دوا سے خوشیوں سے تبسم سے مریضوں کی شفا سے بچوں کی شرارت سے تو ماں کی دعا سے نیکی سے عبادات سے لفظ شخدا سے کودھ اپنے گزینے کے دھڑکنے کی صدا سے رحمت تیری ہر کام پے دیتی ہے دلا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ہم نے تجھے جانا ہے فقر تیری عطا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ابلیس کے فتنوں سے تو آدم کی خطا سے یوسف کی حیاسے اور حضرت ایوب کی تسلیم و رضا سے عیسیٰ کی مسیحائی سے موسیٰ کے عصا سے نمرود کے فران کے انجام فلا سے کعبے کے تقدس سے تو مروہ و صفا سے توریت سے انجیل سے قرآن کی صدا سے یاسین سے طواحہ سے مسمل سے نباسے اک نور جو نکلا تھا کبھی غار ہرا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ہم نے تجھے جانا ہے فقر تیری عطا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ہم نے تجھے جانا ہے فقر تیری عطا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے جنگل کی خموشی سے پہاڑوں کی انا سے پرحول سمندر سے پرسرار گھٹا سے بجلی کے چمکنے سے کڑکنے کی صدا سے مٹی کے خزانوں سے اناجوں سے غذا سے برسات سے توفان سے پانی سے ہوا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ہم نے تجھے جانا ہے فقر تیری عطا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے گلشن کی بہاروں سے تو کلیوں کی حیاسے محسوم سے روتی ہوئی شبنم کی ادا سے لہراتی ہوئی بات سہربات صبا سے ہر رنگ کے ہر شان کے پھولوں کی قباسے چڑیوں کے چہکنے سے تو بلبل کی نوا سے موٹی کی نذاکت سے تو گیرے کی جلا سے ہر شے کے جھلکنے ہوئے فن اور کلا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ہم نے تجھے جانا ہے فقر تیری عطا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے دنیا کے حوادث سے وفاؤں سے جفا سے رنجو غم آلام سے دردوں سے دوا سے خوشیوں سے تبسم سے مریضوں کی شفا سے بچوں کی شرارت سے تو ماں کی دعا سے نیکی سے عبادات سے لفظ شخدا سے کودھ اپنے گزینے کے دھڑکنے کی صدا سے رحمت تیری ہر کام پے دیتی ہے دلا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ہم نے تجھے جانا ہے فقر تیری عطا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ابلیس کے فتنوں سے تو آدم کی خطا سے یوسف کی حیاسے اور حضرت ایوب کی تسلیم و رضا سے عیسیٰ کی مسیحائی سے موسیٰ کے عصا سے نمرود کے فران کے انجام فلا سے کعبے کے تقدس سے تو مروہ و صفا سے توریت سے انجیل سے قرآن کی صدا سے یاسین سے طواحہ سے مسمل سے نباسے اک نور جو نکلا تھا کبھی غار ہرا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ہم نے تجھے جانا ہے فقر تیری عطا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے ہم نے تجھے جانا ہے فقر تیری عطا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے سورج کے اجالوں سے فضاؤں سے خلا سے