Skip to main content
Super-Hit Historical Nasheed - Story Battle of Badar - Jung e Badar - Merciful Nasheed cover art

Super-Hit Historical Nasheed - Story Battle of Badar - Jung e Badar - Merciful Nasheed

by Merciful Nasheeds

Album: Nasheeds

Duration: 6:33

Genre: nasheedType: nasheed

Story & Cultural Context

This Urdu historical nasheed recounts the Battle of Badr, an important early battle in Islamic history. Its title presents it as a narrative devotional performance about the events and significance of Jung-e-Badar.

← Browse
Super-Hit Historical Nasheed - Story Battle of Badar - Jung e Badar - Merciful Nasheed

Super-Hit Historical Nasheed - Story Battle of Badar - Jung e Badar - Merciful Nasheed

AI-Enriched85%
Genre

Story & Cultural Context

This Urdu historical nasheed recounts the Battle of Badr, an important early battle in Islamic history. Its title presents it as a narrative devotional performance about the events and significance of…

Titles in Other Languages

EnglishSuper-Hit Historical Nasheed – Story of the Battle of Badr

Lyrics

جنگِ بدر

فوبدر کی زمیں اور نبی کا ایمان لڑ گئے تھے نبی کے سپاہی جہاں اقتحائی بھی جن کی نہ تعداد تھی تھا تکبر میں فرعون امت وہاں

فوبدر کی زمیں اور نبی کا ایمان لڑ گئے تھے نبی کے سپاہی جہاں اقتحائی بھی جن کی نہ تعداد تھی تھا تکبر میں فرعون امت وہاں مومنوں کو نبی نے منظم کیا نہ تھی تعداد نہ دولت و اسلحہ جانی بے بدر پھر جب صحابہ چلے ہاتھ سے تب نکل تھا گیا کافلہ رب کی منشاہ کے مقصود تھا امتحان بے سامانی کی حالت میں لڑنا پڑا ایک سپاہی جو مقداد بن عمر تھے وہ نبی سے یہ ایک بات کہنے لگے باخدا ہم نہیں قوم موسیٰ یہاں آپ پر ہے فدا جان اور یہ جہاں خبر لینے کو جاسوس بھیجا گیا جا کے مکہ کی تیاریوں کا سنا پھر نبی کی حفاظت کی خاطر وہاں ایک اونچی جگہ مورچہ بن گیا کچھ تو سامان عرصد کی بھی کمی کچھ تھکاوٹ سے اور خوف سے چور تھے ہلکی بارش سے خوف اور تھکاوٹ مٹی اور دشمن کی جانب وہ کیچڑ بنا ساتھ ہی پیاس نے جب ستایا انہیں ایک گروہ کا پیروں کا تب آگے بڑھا حوض پانی کا تھا مسلمانوں کے پاس اس پہ قابض نہ ہو پائے دشمن وہاں بت فروشوں کا لشکر جب آیا وہاں بوجہل بھی دعا گو ہوا تب وہاں یا خدا جو برا ہے اسے آج ہی صبح کو تو ہلاکت کا دے دے مزا جنگ کی بتدہ تین لوگوں سے تھی نامور تھے ولیدت بشہ باباں دوسری طرف حمزہ عبید علی خود نبی نے جنہیں ایک اشارہ کیا جھٹ سے نکلے تو اللہ کے شیروں نے تب سورماوں کو فوراں قتل کر دیا دیکھ کر پل پڑے مشرکی نے قدم اور نبی کی دعاوں کا وہ سلسلہ جب مکمل یوں ہی التجاوں میں تھی لیکن اتنی فکر تھی کہ مہوے دعا کملی کندوں سے گرتی مگر آنکھ میں آنسوں کی لڑی اور مسلسل دعا جنگ بدر جنگ بدر یا خدا آج گر یہ ختم ہو گئے پھر نہ ہوگا کوئی نام لیوہ تیرا پھر اسی وقت ملتا ہے حکم خدا اور قطاروں میں اترے فرشتے تب ہی ایک مٹھی میں مٹی اٹھا کر نبی دشمنوں کی طرف پھینکتے ہیں وہیں دشمنوں میں کوئی ایک ایسا نہ تھا جس کی آنکھوں میں مٹی وہ پہنچی نہیں ساتھ ہی جوش لشکر کو دیتے ہوئے خود نبی آگے بڑھنے کا کہنے لگے تب تلک دشمنوں کا تکبر کہیں خاک ہونے لگا ہوش کھونے لگا تب نبی کے پیدائی یوں جذبے لیے اپنی جنگی مہارت دکھانے لگے دوسری طرف شیطان بھی گھبرا گیا دیکھ کر وہ فرشتے یوں چلتا بنا ساتھ ہی لشکر مشرقین بکھر کر الٹے پاؤں میدان سے نکلتا گیا ڈھونڈتے دو جوانوں نے حملہ کیا اور فرعون امت کتل کر دیا اپنی طاقت تکبر میں دشمن تھا جو مار کھاتے ہوئے یوں بھی کرتا گیا ان صحابہ کے پختا یوں ایمان تھے خون رشتے بھی ان پر نہ حاوی ہوئے عمر فاروق نے جنگ میں سامنے ہاسما موت وہ بھی کتل کر دیے الغرض مسلمانوں نے پائی فتح مشرقین کا بہت بھاری نقصان ہوا حیثماء خبر مکہ میں لے کر گیا کس طرح سب بڑے برج الٹے وہاں قطبہ شہبہ امیہ ابو جحل کی موت کی سب سناتا گیا داستان سن کے کوہرام مکہ میں برپا ہوا ظلم اور جبر کا ختم کیسا ہوا اور مدینے میں پہنچی نوید فتح لوگ نکلے جو کہتے ہوئے واہوا پھیلتی ہی گئی اس خبر کی خوشی یوں رقم ہو گئی ایک تاریخ بھی بدر والوں کے بارے میں جبریل بھی پوچھتے ہیں فضیلت ہے کیا اے نبی آپ کہنے لگے سن لے جبریل کے بدر والوں کی ہے شان سب پہ ایان بدر والوں کی ہے شان سب پہ ایان بدر والوں کی ہے شان سب پہ ایان