
Genre: nasheed, munshidYear: 2024Type: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu nasheed released under the Merciful Nasheeds name, with Huzaifa Akhtar identified in the title. The available title metadata does not verify the composer, lyricist, arrangement, instrumentation, or a specific event associated with the release.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu nasheed released under the Merciful Nasheeds name, with Huzaifa Akhtar identified in the title. The available title metadata does not verify the composer, lyricist,…
Titles in Other Languages
EnglishThis Is Life — May We Live Just Like This
Lyrics
بہار ایسی بنے بہار ایسی بنے بہار ایسی بنے کہ پھول تم سے کھلے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے فہم انسان سے ہو بالا پلک ایسا ہو نرالہ سب کے دل دہلا کے رکھ دے خواہشوں پر ایک تالہ ایسا ہو اخلاق پیکر اخلاق بہرہ اس تیبدات کو جو دیکھ مات خدا کو مانے وہی اے بندگی بس یہی گزار دے جو خدا کہے زندگی گزار دے جو خدا کہے زندگی بہار ایسی بنے کہ پھول تم سے کھلے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے پھول سو نفرت جڑ سمیٹے دل سے نکلیں بول میٹھے مشکوں امبر کی مثل ہوں پھر سے اپنوں کے لیے ہے مثل سوزا بوس دلی ہے نفاق بندہ اعمال بے سکون ہے حیات جو اس طرح سے جیا وہ زندگی ہے دعا بقا کی چاہ میں ہوا فنا با خدا بقا کی چاہ میں ہوا فنا با خدا بہار ایسی بنے کہ پھول تم سے کھلے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے راحت تیری چھوڑ دیں جو خاص ان کو بند دکھانا بدگمہ ہو تیزہن میں الفتوں کے گل کھلانا توڑے دل جو بات سہ کے وہ لمح انسنی کہ کر لپٹ نہ ہر بات مزبد اپنی غمی تو دن کو دے فرحتیں ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے بہار ایسی بنے کہ پھول تم سے کھلے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے شہر کو ایک گھر بنائیں ہیں جو بکرے دل ملائیں خاندان ہوں مخلصی کے پھر سے اپنوں کے لیے بھولے اپنی ذات دل سے ہو ہر بات سلح کے لمح روک دیں آفات وفاہ و بادہ یہی ملے گی منزل صحیح فراقِ یارہ حقیقتِ خودکشی فراقِ یارہ حقیقتِ خودکشی بہار ایسی بنے کہ پھول تم سے کھلے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے فہم انسان سے ہو بالا پلک ایسا ہو نرالہ سب کے دل دہلا کے رکھ دے خواہشوں پر ایک تالہ ایسا ہو اخلاق پیکر اخلاق بہرہ اس تیبدات کو جو دیکھ مات خدا کو مانے وہی اے بندگی بس یہی گزار دے جو خدا کہے زندگی گزار دے جو خدا کہے زندگی بہار ایسی بنے کہ پھول تم سے کھلے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے پھول سو نفرت جڑ سمیٹے دل سے نکلیں بول میٹھے مشکوں امبر کی مثل ہوں پھر سے اپنوں کے لیے ہے مثل سوزا بوس دلی ہے نفاق بندہ اعمال بے سکون ہے حیات جو اس طرح سے جیا وہ زندگی ہے دعا بقا کی چاہ میں ہوا فنا با خدا بقا کی چاہ میں ہوا فنا با خدا بہار ایسی بنے کہ پھول تم سے کھلے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے راحت تیری چھوڑ دیں جو خاص ان کو بند دکھانا بدگمہ ہو تیزہن میں الفتوں کے گل کھلانا توڑے دل جو بات سہ کے وہ لمح انسنی کہ کر لپٹ نہ ہر بات مزبد اپنی غمی تو دن کو دے فرحتیں ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے بہار ایسی بنے کہ پھول تم سے کھلے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے شہر کو ایک گھر بنائیں ہیں جو بکرے دل ملائیں خاندان ہوں مخلصی کے پھر سے اپنوں کے لیے بھولے اپنی ذات دل سے ہو ہر بات سلح کے لمح روک دیں آفات وفاہ و بادہ یہی ملے گی منزل صحیح فراق یارہ حقیقت خودکشی فراق یارہ حقیقت خودکشی بہار ایسی بنے کہ پھول تم سے کھلے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے