Skip to main content
Hai Zindagi Ya Esi Tarah Bas Jeyain cover art

Hai Zindagi Ya Esi Tarah Bas Jeyain

by Merciful Nasheeds

Album: Nasheeds

Duration: 9:38

Genre: nasheed, munshidYear: 2024Type: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu nasheed released under the Merciful Nasheeds name, with Huzaifa Akhtar identified in the title. The available title metadata does not verify the composer, lyricist, arrangement, instrumentation, or a specific event associated with the release.

← Browse
Hai Zindagi Ya Esi Tarah Bas Jeyain

Hai Zindagi Ya Esi Tarah Bas Jeyain

Nasheeds 9:38 2024
AI-Enriched85%

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu nasheed released under the Merciful Nasheeds name, with Huzaifa Akhtar identified in the title. The available title metadata does not verify the composer, lyricist,…

Titles in Other Languages

EnglishThis Is Life — May We Live Just Like This

Lyrics

بہار ایسی بنے
بہار ایسی بنے
بہار ایسی بنے
کہ پھول تم سے کھلے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
فہم انسان سے ہو بالا
پلک ایسا ہو نرالہ
سب کے دل دہلا کے رکھ دے
خواہشوں پر ایک تالہ
ایسا ہو اخلاق
پیکر اخلاق
بہرہ اس تیبدات
کو جو دیکھ مات
خدا کو مانے وہی
اے بندگی بس یہی
گزار دے جو خدا کہے زندگی
گزار دے جو خدا کہے زندگی
بہار ایسی بنے
کہ پھول تم سے کھلے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
پھول سو نفرت جڑ سمیٹے
دل سے نکلیں بول میٹھے
مشکوں امبر کی مثل ہوں
پھر سے اپنوں کے لیے
ہے مثل سوزا
بوس دلی ہے نفاق
بندہ اعمال
بے سکون ہے حیات
جو اس طرح سے جیا
وہ زندگی ہے دعا
بقا کی چاہ میں ہوا
فنا با خدا
بقا کی چاہ میں ہوا
فنا با خدا
بہار ایسی بنے
کہ پھول تم سے کھلے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
راحت تیری چھوڑ دیں جو
خاص ان کو بند دکھانا
بدگمہ ہو تیزہن میں
الفتوں کے گل کھلانا
توڑے دل جو بات
سہ کے وہ لمح
انسنی کہ کر
لپٹ نہ ہر بات
مزبد اپنی غمی
تو دن کو دے فرحتیں
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
بہار ایسی بنے
کہ پھول تم سے کھلے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
شہر کو ایک گھر بنائیں
ہیں جو بکرے دل ملائیں
خاندان ہوں مخلصی کے
پھر سے اپنوں کے لیے
بھولے اپنی ذات
دل سے ہو ہر بات
سلح کے لمح
روک دیں آفات
وفاہ و بادہ یہی
ملے گی منزل صحیح
فراقِ یارہ حقیقتِ خودکشی
فراقِ یارہ حقیقتِ خودکشی
بہار ایسی بنے
کہ پھول تم سے کھلے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
فہم انسان سے ہو بالا
پلک ایسا ہو نرالہ
سب کے دل دہلا کے رکھ دے
خواہشوں پر ایک تالہ
ایسا ہو اخلاق
پیکر اخلاق
بہرہ اس تیبدات
کو جو دیکھ مات
خدا کو مانے وہی
اے بندگی بس یہی
گزار دے جو خدا کہے زندگی
گزار دے جو خدا کہے زندگی
بہار ایسی بنے
کہ پھول تم سے کھلے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
پھول سو نفرت جڑ سمیٹے
دل سے نکلیں بول میٹھے
مشکوں امبر کی مثل ہوں
پھر سے اپنوں کے لیے
ہے مثل سوزا
بوس دلی ہے نفاق
بندہ اعمال
بے سکون ہے حیات
جو اس طرح سے جیا
وہ زندگی ہے دعا
بقا کی چاہ میں ہوا
فنا با خدا
بقا کی چاہ میں ہوا
فنا با خدا
بہار ایسی بنے
کہ پھول تم سے کھلے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
راحت تیری چھوڑ دیں جو
خاص ان کو بند دکھانا
بدگمہ ہو تیزہن میں
الفتوں کے گل کھلانا
توڑے دل جو بات
سہ کے وہ لمح
انسنی کہ کر
لپٹ نہ ہر بات
مزبد اپنی غمی
تو دن کو دے فرحتیں
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
بہار ایسی بنے
کہ پھول تم سے کھلے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
شہر کو ایک گھر بنائیں
ہیں جو بکرے دل ملائیں
خاندان ہوں مخلصی کے
پھر سے اپنوں کے لیے
بھولے اپنی ذات
دل سے ہو ہر بات
سلح کے لمح
روک دیں آفات
وفاہ و بادہ یہی
ملے گی منزل صحیح
فراق یارہ حقیقت خودکشی
فراق یارہ حقیقت خودکشی
بہار ایسی بنے
کہ پھول تم سے کھلے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے
ہے زندگی یہ اسی طرح بس جئیے