
Genre: nasheedYear: 2024Type: nasheed
Story & Cultural Context
This Urdu devotional nasheed is framed as a heartfelt dua expressing yearning for inner peace and a closer spiritual relationship with Allah. The available title information does not identify a specific commissioning occasion, credited writers, or musical production details.
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
Story & Cultural Context
This Urdu devotional nasheed is framed as a heartfelt dua expressing yearning for inner peace and a closer spiritual relationship with Allah. The available title information does not identify a…
Titles in Other Languages
العربيةمولا سکون سا آشنا کر دے
EnglishO Lord, Make Me Acquainted with Peace
Lyrics
مولا مولا مولا مولا اے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے کرم کی بارشیں برسا میری رخ کے بیانگاہ پر کہ دھل جائے گناہ کے دم روشن ہو ہر ایک منظر نظر آئے تیری قدرت پچھے ہر چیز کے اندر میرے دل کے مہامانوں میں کچھ ایسی سیا کر دے میرے دل کے مہامانوں میں کچھ ایسی سیا کر دے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے غموں کی لہر اٹھتی ہے کنارے چھوٹ جاتے ہیں جنہیں اپنا سمجھتا ہوں وہ پیارے چھوٹ جاتے ہیں سوا تیرے اے مولا سب سہارے چھوٹ جاتے ہیں اے مولا اروعت الوسکھا کو میرے ہمراہ کر دے اے مولا اروعت الوسکھا کو میرے ہمراہ کر دے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے نہ شہرت کی تمنہ ہے نہ طولت کا بجاری ہوں فقط ایک آفیت رحمت کا اے مولا بھکھاری ہوں گئے لمبوں کے آئینے میں ہر پے شرم ساری ہوں اے مولا ماف اب ہر ایک دن میری خطا کر دے مولا ماف اب ہر ایک دن میری خطا کر دے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے یہ دل میں ایک حسرت ہے مولا تیرہ گھر دیکھو ہرن کی خاک کھوچھو مدینے کا سفر دیکھو گزارے تھے جو آقا نے وہی شام و سہر دیکھو اے مولا درد دل کے واسطے اتنی سیا کر دے مولا درد دل کے واسطے اتنی سیا کر دے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے کبھی اصحاب کے قصے سنو اور سنت جاؤں میں کبھی چشمے تصبر میں دبی کا دور پاؤں میں وہاں جا کر کبھی بھیوں کی محفل سے نہ آؤں میں اے رب مجھ پر اسی نیزہ پھر احمد کی گھٹا کر دے اے رب مجھ پر اسی نیزہ پھر احمد کی گھٹا کر دے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے کرم کی بارشیں برسا میری رخ کے بیانگاہ پر کہ دل جائے گناہ کے دن روشن ہو ہر ایک منظر نظر آئے تیری قدرت پچھے ہر چیز کے اندر میرے دل کے مہامانوں میں کچھ ایسی سیا کر دے میرے دل کے مہامانوں میں کچھ ایسی سیا کر دے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے غموں کی لہر اٹھتی ہے کنارے چھوٹ جاتے ہیں جنہیں اپنا سمجھتا ہوں وہ پیارے چھوٹ جاتے ہیں سوا تیرے اے مولا سب سہارے چھوٹ جاتے ہیں اے مولا اروعت الوسکھا کو میرے ہمراہ کر دے اے مولا اروعت الوسکھا کو میرے ہمراہ کر دے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے نہ شہرت کی تمنہ ہے نہ طولت کا بجاری ہوں فقط ایک آفیت رحمت کا اے مولا بھکھاری ہوں گئے لمبوں کے آئینے میں ہر پے شرم ساری ہوں اے مولا ماف اب ہر ایک دن میری خطا کر دے اے مولا ماف اب ہر ایک دن میری خطا کر دے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے یہ دل میں ایک حسرت ہے مولا تیرہ گھر دیکھو ہرن کی خاک کھوچھو مدینے کا سفر دیکھو گزارے تھے جو آقا نے وہی شام و سہر دیکھو اے مولا درد دل کے واسطے اتنی سیا کر دے مولا درد دل کے واسطے اتنی سیا کر دے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے کبھی اصحاب کے قصے سنو اور سنت جاؤں میں کبھی چشمے تصبر میں دبی کا دور پاؤں میں وہاں جا کر کبھی بھیوں کی محفل سے نہ آؤں میں اے رب مجھ پر اسی نیزہ پھر احمد کی گھٹا کر دے اے رب مجھ پر اسی نیزہ پھر احمد کی گھٹا کر دے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے مولا درد سارے چھین کر خوشیاں عطا کر دے میرے بے چین اس دل کو سکون سے آشنا کر دے