Skip to main content
Aya Hai Tera Banda, Khamosh Nawa La Kr cover art

Aya Hai Tera Banda, Khamosh Nawa La Kr

by Merciful Nasheeds

Album: Nasheeds

Duration: 10:50

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2025Type: nasheed

Story & Cultural Context

An Urdu Naat Sharif and dua centered on a devotional supplication addressed to the Prophet Muhammad, beginning with the phrase “Aya Hai Tera Banda” (“Your servant has come”). The available title identifies it as an emotional 2025 performance by Merciful Nasheeds, but does not provide verified…

← Browse
Aya Hai Tera Banda, Khamosh Nawa La Kr

Aya Hai Tera Banda, Khamosh Nawa La Kr

Nasheeds 10:50 2025
AI-Enriched85%

Story & Cultural Context

An Urdu Naat Sharif and dua centered on a devotional supplication addressed to the Prophet Muhammad, beginning with the phrase “Aya Hai Tera Banda” (“Your servant has come”). The available title…

Titles in Other Languages

العربيةآیا ہے تیرا بندہ، خاموش نوا لے کر
EnglishYour Servant Has Come, Bringing a Silent Voice

Lyrics

مولا مولا مولا
سرگشتا و درمادا بے حمد و ناکارا
وارفتا و سرگردا بے مایہ و بے چارا
سے طاقت تم خردا اس نفس کا دکھیارا
ہر سمتِ صغفلت کا گیرے ہوئے اندھیارا
آج اپنی خطاؤں کا لادے ہوئے پشتارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
جز بات کی موجوں میں لفظوں کی زباں گم ہے
عالم تحییر کا یاران بیان گم ہے
مضمون جو سوچا تھا کیا جان کہاں گم ہے
آنکھوں میں بھی عشقوں کا اب نام و نشان گم ہے
سینے میں جلسلگتا ہے رہ رہ کے گنگارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
آیا ہوں ترے در پر خاموش نوالے کر
نیکی ستھی دامن ہم بار خطا لے کر
لیکن تیری چوکھٹ سے امید سہارا لے کر
عامال کی ظلمت میں توبہ کی زیا لے کر
سینے میں تلاتم ہے دل شرم سے صدبارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
امید کا مرکز ہے رحمت سے بھرا در ہے
اس گھر کا ہر اک ذرہ رشک ماہ و اختر ہے
محروم نہیں کوئی اس در سے وہ در ہے
جو اس کا بکا ری ہے قسمت کا سکندر ہے
یہ نور کا کنزم ہے یہ امن کا فووارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
یہ قابا کرشمہ ہے یارب تیری قدرت کا
ہر لمحہ یہاں جاری میزاب رحمت کا
ہر آن برستا ہے ہنتے سخاوت کا
مظہر ہے یہ بندوں سے خالق کی محبت کا
اس عالم پستی میں عظمت کا یہ جو بارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
یارب مجھے دنیا میں جینے کا کرینا دے
میرے دل ویران کو الفت کا خزینا دے
سیلاب معاصی میں تاہت کا سفینا دے
ہستی کے اندھیروں کو انوار مدینہ دے
ہر دہر میں پھیلا دے ایمان کا اجیارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
یارب میری ہستی پر مجھ خاص کرم فرما
بخشے ہوئے بندوں میں مجھ کو بھی رقم فرما
گھٹکے ہوئے راہی کا رخ سوئے حرم فرما
دنیا کو اطاعت سے گلزارِ رم فرما
کردے میرے ماضی کی ہر سانس کا کفارا
سرگش تاودر مادا بے حمد و ناکارا
وارف تاودر گردا بے مایہ و بے چارا
سے طاقت تم خردا اس نفس کا دکھیارا
ہر سمتِ صغفلت کا گیرے ہوئے اندھیارا
آج اپنی خطاؤں کا لادے ہوئے پشتارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
جز بات کی موجوں میں لفظوں کی زباں گم ہے
عالم تحییر کا یاران بیان گم ہے
مضمون جو سوچا تھا کیا جان کہاں گم ہے
آنکھوں میں بھی عشقوں کا اب نام و نشان گم ہے
سینے میں جلسلگتا ہے رہ رہ کے گنگارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
آیا ہوں ترے در پر خاموش نوالے کر
نیکی ستھی دامن ہم بار خطا لے کر
لیکن تیری چوکھٹ سے امید سہارا لے کر
عامال کی ظلمت میں توبہ کی زیا لے کر
سینے میں تلاتم ہے دل شرم سے صدبارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
امید کا مرکز یہ رحمت سے بھرا در ہے
اس گھر کا ہر اک ذرہ رشک ماہ و اختر ہے
محروم نہیں کوئی اس در سے وہ در ہے
جو اس کا بکا ری ہے قسمت کا سکندر ہے
یہ نور کا کنزم ہے یہ امن کا فووارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
یہ قا با کرشمہ ہے یا رب تیری قدرت کا
ہر لمحہ یہاں جاری میزاب رحمت کا
ہر آن برستا ہے ہنتے سخاوت کا
مظہر ہے یہ بندوں سے خالق کی محبت کا
اس عالم پستی میں عظمت کا یہ جو بارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
مولا
یارب مجھے دنیا میں جینے کا کرینا دے
میرے دل ویران کو الفت کا خزینا دے
سیلاب معاصی میں تاہت کا سفینا دے
ہستی کے اندھیروں کو انوار مدینہ دے
ہر دہر میں پھیلا دے ایمان کا اجیارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
یارب میری ہستی پر مجھ خاص کرم فرما
بخشے ہوئے بندوں میں مجھ کو بھی رقم فرما
گھٹکے ہوئے راہی کا رخ سوئے حرم فرما
دنیا کو اطاعت سے گلزار رم فرما
کردے میرے ماضی کی ہر سانس کا کفارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
سرگشتا و درمادا بے حمد و ناکارا
وارفتا و سرگردا بے مایہ و بے چارا
سے طاقت تم خوردہ اس نفس کا دکھیارا
ہر سمتِ صغفلت کا گیرے ہوئے اندھیارا
آج اپنی خطاؤں کا لادے ہوئے پشتارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
جز بات کی موجوں میں لفظوں کی زباں گم ہے
عالم تحییر کا یاران بیان گم ہے
مضمون جو سوچا تھا کیا جان کہاں گم ہے
آنکھوں میں بھی عشقوں کا اب نام و نشان گم ہے
سینے میں جلسلگتا ہے رہ رہ کے گنگارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
آیا ہوں ترے در پر خاموش نوالے کر
نیکی ستھی دامن ہم بار خطا لے کر
لیکن تیری چوکھٹ سے امید سہارا لے کر
عامال کی ظلمت میں توبہ کی زیا لے کر
سینے میں تلاتم ہے دل شرم سے صدبارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
امید کا مرکز یہ رحمت سے بھرا در ہے
اس گھر کا ہر اک ذرہ رشک ماہ و اختر ہے
محروم نہیں کوئی اس در سے وہ در ہے
جو اس کا بکا ری ہے قسمت کا سکندر ہے
یہ نور کا کنزم ہے یہ امن کا فووارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
یہ قابا کرشمہ ہے یارب تیری قدرت کا
ہر لمحہ یہاں جاری میزاب رحمت کا
ہر آن برستا ہے ہنتے سخاوت کا
مظہر ہے یہ بندوں سے خالق کی محبت کا
اس عالم پستی میں عظمت کا یہ جو بارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
یارب مجھے دنیا میں جینے کا کرینا دے
میرے دل ویران کو الفت کا خزینا دے
سیلاب معاصی میں تاہت کا سفینا دے
ہستی کے اندھیروں کو انوار مدینہ دے
ہر دہر میں پھیلا دے ایمان کا اجیارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا
یارب میری ہستی پر مجھ خاص کرم فرما
بخشے ہوئے بندوں میں مجھ کو بھی رقم فرما
گھٹکے ہوئے راہی کا رخ سوئے حرم فرما
دنیا کو اطاعت سے گلزارِ رم فرما
کردے میرے ماضی کی ہر سانس کا کفارا
در بار میں حاضر ہے اک بندہ آوارا