
Genre: nasheed, ilahi, hamdYear: 2026Type: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional hamd and dua centered on the supplication “Ilahi, dil ko apni yaad se baidaar kar de,” meaning “O Allah, awaken the heart through Your remembrance.” Publicly verifiable composer, lyricist, arrangement, production, and recording details were not available.
← Browse

AI-Enriched62%
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional hamd and dua centered on the supplication “Ilahi, dil ko apni yaad se baidaar kar de,” meaning “O Allah, awaken the heart through Your remembrance.” Publicly…
Titles in Other Languages
العربيةإلهي دل کو اپنی یاد سے بیدار کر دے
EnglishBeautiful Hamd & Dua 2026 – O Allah, Awaken the Heart Through Your Remembrance
Lyrics
اللہ اللہ اللہ اللہ مولا مولا مولا مولا الہی دل کو اپنی یاد سے بیدار تو کردے گناہ ہو کے سمندر سے مجھے بے زار تو کردے میرے عامال ویران ہے میرا دل زنگ آلودا کرم کی برکتوں سے نار کو گلزار تو کردے الہی دل کو اپنی یاد سے بیدار تو کردے گناہ ہو کے سمندر سے مجھے بے زار تو کردے گزر جائے یہ زندہ وقت تیرا نام لیتے ہی زباں کو ذکر حق میں ہر گھڑی سرشار تو کردے الہی دل کو اپنی یاد سے بیدار تو کردے گناہ ہو کے سمندر سے مجھے بے زار تو کردے خطا کے داغ دل جائیں میرے عشق ندامت سے سیاہ دل کی سیاہی کو شم انوار تو کردے الہی دل کو اپنی یاد سے بیدار تو کردے گناہ ہو کے سمندر سے مجھے بے زار تو کردے ہوائے نفس کے توفاں مجھے یوں ہی ڈبونا دے میری کشتی کو ساحل تک میرے غمخار تو کردے الہی دل کو اپنی یاد سے بیدار تو کردے گناہ ہو کے سمندر سے مجھے بے زار تو کردے کفایت تجھ پہ ہی کرلوں نہ ہو کچھ غیر کی حاجت اے مولا ابن عارف کو گل بے خار تو کردے الہی دل کو اپنی یاد سے بیدار تو کردے گناہ ہو کے سمندر سے مجھے بے زار تو کردے میرے آمال ویران ہے میرا دل زنگ آلودا کرم کی برکتوں سے نار کو گلزار تو کردے الہی دل کو اپنی یاد سے بیدار تو کردے گناہ ہو کے سمندر سے مجھے بے زار تو کردے گزر جائے یہ زندہ وقت تیرا نام لیتے ہی زباں کو ذکر حق میں ہر گھڑی سرشار تو کردے الہی دل کو اپنی یاد سے بیدار تو کردے گناہ ہو کے سمندر سے مجھے بے زار تو کردے خطا کے داغ دل جائیں میرے عشق ندامت سے سیاہ دل کی سیاہی کو شم انوار تو کردے الہی دل کو اپنی یاد سے بیدار تو کردے گناہ ہو کے سمندر سے مجھے بے زار تو کردے ہوائے نفس کے توفاں مجھے یوں ہی ڈبونا دے میری کشتی کو ساحل تک میرے غمخار تو کردے الہی دل کو اپنی یاد سے بیدار تو کردے گناہ ہو کے سمندر سے مجھے بے زار تو کردے کفایت تجھ پہ ہی کرلوں نہ ہو کچھ غیر کی حاجت اے مولا ابن عارف کو گل بے خار تو کردے الہی دل کو اپنی یاد سے بیدار تو کردے گناہ ہو کے سمندر سے مجھے بے زار تو کردے