
Tribute to Mufti Shamail Nadwi - Kuch Aisa Shamail B Chuppay Hain Madaris Mein
Album: Nasheeds
Genre: nasheed, madih, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This Urdu nasheed is a tribute to Mufti Shamail Nadwi, highlighting the distinctive qualities and scholarly figures found within Islamic seminaries. The title expresses admiration for exemplary personalities whose virtues may remain hidden in the madaris.
← Browse

AI-Enriched95%
Story & Cultural Context
This Urdu nasheed is a tribute to Mufti Shamail Nadwi, highlighting the distinctive qualities and scholarly figures found within Islamic seminaries. The title expresses admiration for exemplary…
Titles in Other Languages
العربيةکچھ ایسے شمائل بھی چھپے ہیں مدارس میں
EnglishSome Such Qualities Are Also Hidden in the Madaris
Lyrics
مدرسہ مدرسہ مدرسہ مدرسہ مدرسہ مدرسہ مدرسہ مکتب میں تو مصروف ہیں اوجل ہیں جامیں کچھ ایسے شمائل بھی چھپائے ہیں جانے کل اہلِ مدرسہ کو سنا سارے جہانے دل باندھ کے ذہنوں میں بھرے فکر و فسانے مکتب میں تو مصروف ہیں اوجل ہیں جامیں کچھ ایسے شمائل بھی چھپائے ہیں جانے اس شان سے اللہ کی تعظیم ہوئی ہے واللہ یہ الہاد کی تدمین ہوئی ہے ہر ایک مواقعد کی جو تحسین ہوئی ہے واحدت کا گرام بار اٹھاتے ہیں جو شانے کچھ ایسے شمائل بھی چھپائے ہیں جانے کل اہلِ مدرسہ کو سنا سارے جہانے دل باندھ کے ذہنوں میں بھرے فکر و فسانے مکتب میں تو مصروف ہیں اوجل ہیں جامیں کچھ ایسے شمائل بھی چھپائے ہیں جانے اسلام تو اب ایسے نکے ہے باقی ضرورت گرماہیں جو سینوں کو ملے دین کو قوت دلدادہِ ظلمت کو رہے ہم سے شکایت کیوں چاند چمکتا ہے اندیرے کی نہاں میں کچھ ایسے شمائل بھی چھپائے ہیں جانے کل اہلِ مدرسہ کو سنا سارے جہانے دل باندھ کے ذہنوں میں بھرے فکر و فسانے مکتب میں تو مصروف ہیں اوجل ہیں جامیں کچھ ایسے شمائل بھی چھپائے ہیں جانے مبہوت ہوا جیسے براہیم کا دشمن ندوی نے بقا پھر سے کیا ویسا طلع تم ابلیس پریشان ہے ملحد بھی ہے نادم کیا خوب ہی منظر ہے جو دیکھا ہے جانے کچھ ایسے شمائل بھی چھپائے ہیں جانے کل اہلِ مدرسہ کو سنا سارے جہانے دل باندھ کے ذہنوں میں بھرے فکر و فسانے مکتب میں تو مصروف ہیں اوجل ہیں جامیں کچھ ایسے شمائل بھی چھپائے ہیں جانے اس شان سے ہر جام پلاتا گیا ساکی ایک بھونک سے ہر دم کو اڑاتا گیا راکی توہید کے بازو کا ابھی زور ہے باقی اب تک تو چلا ہی نہ جو تھا تیر کما میں کچھ ایسے شمائل بھی چھپائے ہیں جانے کل اہلِ مدرسہ کو سنا سارے جہانے دل باندھ کے ذہنوں میں بھرے فکر و فسانے مدرسہ میں تو مصروف ہیں اوجل ہیں جامیں مدرسہ سے شمائل بھی چھپائے ہیں جانے