
Genre: nasheedYear: 2026Type: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional kalam centered on detachment from worldly concerns. Publicly available metadata identifies the performance as a heart-touching nasheed by Merciful Nasheeds, but does not establish the original poet, melody composer, arrangement, or musical mode.
← Browse

AI-Enriched85%
Genre
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional kalam centered on detachment from worldly concerns. Publicly available metadata identifies the performance as a heart-touching nasheed by Merciful Nasheeds, but…
Titles in Other Languages
EnglishI Have No Concern with the World
Lyrics
دُنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا پھولوں کو نچوڑا تھا اس نے تخلیق مقصد کو بھول گیا جتنے بیت تجربے اس نے کیے گوست چاہا سل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا ہے ظلم و ستم کا دور یہاں انصاف وطن میں اب ہے کہاں انصاف کی کرسی پر بیٹھا وہ سچا آدل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا احساس کی بھٹی میں تپ کر وہ کندن جیسا لگتا ہے پھولوں کا مقدر بن تو گیا کلیوں کا وہ حامل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا الزام یہ اس پر ہے نہ حق بیکار سیاست کرتے ہو مظلوم کی بستی میں آ کر ظالم کا وہ قاتل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا جب بیٹی کی عصمت لوٹی تھی ہے تو انگلی ادھر ہی اٹھتی ہے افسوس تمہارے گھر میں بھی کوئی مرد کامل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا تقریر تمہاری جوش بھری میں نے بھی سنی تھی اے شازی تقریر تمہاری جوش بھری میں نے بھی سنی تھی اے حیدر تم آج مکرر بن تو گئے میں اچھا عالم بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا پھولوں کو نچوڑا تھا اس نے تخلیق مقصد کو بھول گیا جتنے بیت تجربے اس نے کیے گوست چاہا سل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا ہے ظلم و ستم کا دور یہاں انصاف وطن میں اب ہے کہاں انصاف کی کرسی پر بیٹھا وہ سچا حاتل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا احساس کی بھٹی میں تپ کر وہ کندن جیسا لگتا ہے پھولوں کا مقدر بن تو گیا کلیوں کا وہ حامل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا الزام یہ اس پر ہے نہ حق بیکار سیاست کرتے ہو مظلوم کی بستی میں آ کر ظالم کا وہ قاتل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا جب بیٹی کی عصمت لوٹی تھی ہے تو انگلی ادھر ہی اٹھتی ہے افسوس تمہارے گھر میں بھی کوئی مرد کامل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا تقریر تمہاری جوش بھری میں نے بھی سنی تھی اے شازی تقریر تمہاری جوش بھری میں نے بھی سنی تھی اے حیدر تم آج مکرر بن تو گئے میں اچھا عالم بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا دنیا سے نہیں ہے مجھ کو غرض انسان میں کامل بن نہ سکا افلاس میں رہ کر خوش ہوں مگر عیسار کے قابل بن نہ سکا