Skip to main content
Zindagi Ek Kiraye Ka Ghar Hai cover art

Zindagi Ek Kiraye Ka Ghar Hai

by Merciful Nasheeds

Album: Nasheeds

Duration: 9:45

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2026Type: nasheed

Story & Cultural Context

An Urdu devotional naat reflecting on the temporary nature of worldly life and the inevitability of death. Its title presents a warning-oriented spiritual reminder, encouraging listeners to remember mortality and prepare for the hereafter.

← Browse
Zindagi Ek Kiraye Ka Ghar Hai

Zindagi Ek Kiraye Ka Ghar Hai

Nasheeds 9:45 2026
AI-Enriched54%

Story & Cultural Context

An Urdu devotional naat reflecting on the temporary nature of worldly life and the inevitability of death. Its title presents a warning-oriented spiritual reminder, encouraging listeners to remember…

Titles in Other Languages

العربيةزندگی ایک کرائے کا گھر ہے — موت جب تجھ کو آواز دے گی
EnglishLife Is a Rented House — When Death Calls You

Lyrics

زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
روٹ جائیں گی جب تجھ سے خوشیاں
غم کے سانچے میں ڈھلنا پڑے گا
وقت ایسا بھی آئے گا نادا
تجھ کو کاتوں پہ چلنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
اتنا معصوم ہو جائے گا تُو
اتنا مجبور ہو جائے گا تُو
یہ جو مخمل کا چولا ہے تیرا
یہ کفن میں بدلنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
کر لے ایمان سے دل کی صفائی
چھوڑ دے چھوڑ دے تُو برائی
وقت باقی ہے آہ سی سنبھل جا
ورنہ دوزخ میں جلنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
جلبے حسن بھی جا بجا ہے
اور خطرات بھی ہیں زیادہ
زندگانی کا یہ راستہ ہے
ہر قدم پر سنبھلنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
ہے بہت ہی بری چیز دنیا
کیوں سمجھتا ہے دنیا کو اپنا
باز آجا گناہوں سے ورنہ
عمر بھر ہاتھ ملنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
روٹ جائیں گی جب تجھ سے خوشیاں
غم کے سانچے میں ڈھلنا پڑے گا
وقت ایسا بھی آئے گا نادا
تجھ کو کاتوں پہ چلنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
اتنا معصوم ہو جائے گا تُو
اتنا مجبور ہو جائے گا تُو
یہ جو مخمل کا چولا ہے تیرا
یہ کفن میں بدلنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
کر لے ایمان سے دل کی صفائی
چھوڑ دے چھوڑ دے تُو برائی
وقت باقی ہے آہ سی سنبھل جا
ورنہ دوزخ میں جلنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
جلبے حسن بھی جا بجا ہے
اور خطرات بھی ہیں زیادہ
زندگانی کا یہ راستہ ہے
ہر قدم پر سنبھلنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
ہے بہت ہی بری چیز دنیا
کیوں سمجھتا ہے دنیا کو اپنا
باز آجا گناہوں سے ورنہ
عمر بھر ہاتھ ملنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے
اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا
موت جب تجھ کو آواز دے گی
گھر سے باہر نکلنا پڑے گا