
Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2026Type: nasheed
Story & Cultural Context
An Urdu devotional naat reflecting on the temporary nature of worldly life and the inevitability of death. Its title presents a warning-oriented spiritual reminder, encouraging listeners to remember mortality and prepare for the hereafter.
← Browse

AI-Enriched54%
Story & Cultural Context
An Urdu devotional naat reflecting on the temporary nature of worldly life and the inevitability of death. Its title presents a warning-oriented spiritual reminder, encouraging listeners to remember…
Titles in Other Languages
العربيةزندگی ایک کرائے کا گھر ہے — موت جب تجھ کو آواز دے گی
EnglishLife Is a Rented House — When Death Calls You
Lyrics
زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا روٹ جائیں گی جب تجھ سے خوشیاں غم کے سانچے میں ڈھلنا پڑے گا وقت ایسا بھی آئے گا نادا تجھ کو کاتوں پہ چلنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا اتنا معصوم ہو جائے گا تُو اتنا مجبور ہو جائے گا تُو یہ جو مخمل کا چولا ہے تیرا یہ کفن میں بدلنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا کر لے ایمان سے دل کی صفائی چھوڑ دے چھوڑ دے تُو برائی وقت باقی ہے آہ سی سنبھل جا ورنہ دوزخ میں جلنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا جلبے حسن بھی جا بجا ہے اور خطرات بھی ہیں زیادہ زندگانی کا یہ راستہ ہے ہر قدم پر سنبھلنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا ہے بہت ہی بری چیز دنیا کیوں سمجھتا ہے دنیا کو اپنا باز آجا گناہوں سے ورنہ عمر بھر ہاتھ ملنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا روٹ جائیں گی جب تجھ سے خوشیاں غم کے سانچے میں ڈھلنا پڑے گا وقت ایسا بھی آئے گا نادا تجھ کو کاتوں پہ چلنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا اتنا معصوم ہو جائے گا تُو اتنا مجبور ہو جائے گا تُو یہ جو مخمل کا چولا ہے تیرا یہ کفن میں بدلنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا کر لے ایمان سے دل کی صفائی چھوڑ دے چھوڑ دے تُو برائی وقت باقی ہے آہ سی سنبھل جا ورنہ دوزخ میں جلنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا جلبے حسن بھی جا بجا ہے اور خطرات بھی ہیں زیادہ زندگانی کا یہ راستہ ہے ہر قدم پر سنبھلنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا ہے بہت ہی بری چیز دنیا کیوں سمجھتا ہے دنیا کو اپنا باز آجا گناہوں سے ورنہ عمر بھر ہاتھ ملنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا زندگی ایک قرائے کا گھر ہے اک نہ اک دن بدلنا پڑے گا موت جب تجھ کو آواز دے گی گھر سے باہر نکلنا پڑے گا