
Genre: nasheed, ilahi, munshidYear: 2026Type: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional dua asking Allah to remove worldly love from the heart. The available title and listing identify it as an emotional Islamic vocal track, but no verified credits or additional backstory were found.
← Browse

AI-Enriched54%
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional dua asking Allah to remove worldly love from the heart. The available title and listing identify it as an emotional Islamic vocal track, but no verified credits…
Titles in Other Languages
العربيةإلهي دل سے دنیا کی محبت کو فنا کر دے
EnglishO Allah, Eradicate the Love of the World from My Heart
Lyrics
مولا مولا مولا مولا مولا مولا یا مولا یا مولا یا مولا یا مولا الہی اس کے عالم سے مجھے بیزار تو کر دے الہی اس کے عالم سے مجھے بیزار تو کر دے مولا اپنی الفت سے مجھے سرشار تو کر دے ہمارا حال کو مالک ہے سوات تیرے نہیں کوئی ہمارا حال کو مالک ہے سوات تیرے نہیں کوئی بیزار تیرے ہوتے سمیں وہ برپا کے دار تو کر دے الہی اس کے عالم سے مجھے بیزار تو کر دے مولا اپنی الفت سے مجھے سرشار تو کر دے تیرے در کو جو میں جاؤں پلٹ کر نہ کبھی آؤں تیرے در کو جو میں جاؤں پلٹ کر نہ کبھی آؤں مجھے میں خان وحدت کا وہ میں ہار تو کر دے الہی اس کے عالم سے مجھے بیزار تو کر دے مولا اپنی الفت سے مجھے سرشار تو کر دے نظر بازی جب میری رتبت بلندہ مد ہو میرے آمال کو صالح میرے مفصال تو کر دے الہی اس کے عالم سے مجھے بیزار تو کر دے مولا اپنی الفت سے مجھے سرشار تو کر دے یہ دل ایسا بدل دے کے بدی کی سوچ نہ آئے یہ دل ایسا بدل دے کے بدی کی سوچ نہ آئے یہ پد کو بدل کر خیر کا معار تو کر دے الہی اس کے عالم سے مجھے بیزار تو کر دے مولا اپنی الفت سے مجھے سرشار تو کر دے گناہوں کے خزاں سے دل کا گلشن ہو چکا ویران گناہوں کے خزاں سے دل کا گلشن ہو چکا ویران الہی اپنی رحمت سے اسے بہار تو کر دے الہی اس کے عالم سے مجھے بیزار تو کر دے مولا اپنی الفت سے مجھے سرشار تو کر دے میرے عمل کا ہو نمونہ سننت آقا میرے دل کے مکیمولا شہر امبرا تو کر دے الہی اس کے عالم سے مجھے بیزار تو کر دے مولا اپنی الفت سے مجھے سرشار تو کر دے یہ دنیا دار فانی ہے یہاں جینے کی خواہش کیا یہ دنیا دار فانی ہے یہاں جینے کی خواہش کیا حرم کی ساری زمین پاک کو بے بار تو کر دے الہی اس کے عالم سے مجھے بیزار تو کر دے مولا اپنی الفت سے مجھے سرشار تو کر دے مجھے چاہت نہیں کوئی یہ صدقہ جاں ہو منصب کی مجھے چاہت نہیں کوئی یہ صدقہ جاں ہو منصب کی امقد اپنی محبت کا مجھے حقدار تو کر دے الہی اس کے عالم سے مجھے بیزار تو کر دے مولا اپنی الفت سے مجھے سرشار تو کر دے آدھی آیا سوالی بن کے مولا تیرے در پہ آدھی آیا سوالی بن کے مولا تیرے در پہ راہ خاص مجھ پہ بھی خدایں کے بار تو کر دے الہی اس کے عالم سے مجھے بیزار تو کر دے مولا اپنی الفت سے مجھے سرشار تو کر دے