
Genre: nasheed, naat, madih, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This is an Urdu devotional naat centered on praise of the Prophet Muhammad, presented as a heart-touching vocal performance. Publicly available listings identify the track and performer name but do not provide verified songwriter, composer, arrangement, or production credits.
← Browse

AI-Enriched81%
Story & Cultural Context
This is an Urdu devotional naat centered on praise of the Prophet Muhammad, presented as a heart-touching vocal performance. Publicly available listings identify the track and performer name but do…
Titles in Other Languages
العربيةوہ جب مسکراتے
EnglishWhen He Smiles
Lyrics
تجلی جو انسان کی صورت میں چمکی وہ صورت کے کنلہ کی صورت میں چمکی وہ چہرہ تھا ان کا کے نورے جلی تھا وہ جسم موتر بھی کیا صندلی تھا وہ آنکھوں میں دورے تھے مذہب والے وہ ہونٹوں پہ الفاظ عبلاہ والے وہ خمدار باریک عبرو مبارک وہ جنت سے بھی قیمتی مو مبارک وہ بے داغ بے عیب رخ سار ان کے اور ان پر فروزات انوار ان کے وہ بولے تو پھولوں کو مسکان بخشے وہ دیکھے تو فطرت کو ایمان بخشے وہ عابدہن تھا کے عاب شفا تھا دہن میں خدا جانے کیا ذائقہ تھا خوشادہ پرونور پیشانی ان کی نگاہ چمک دار پیشانی ان کی نگاہوں میں عیفت کی شم بے فروزہ جبھی فر نبووت کی کرنے فروزہ تجلی جو انسان کی صورت میں چمکی وہ صورت کے کنلہ کی صورت میں چمکی بہت ہی مثالی تھی ظلف نبی کی سرارھنگریالی تھی ظلف نبی کی وہ پھولوں سے بڑھ کر ملائم تھا لہجہ ہمیشہ صدا پر فکائم تھا لہجہ وہ پاکیزہ سانچے میں ڈھالے گئے تھے وہ کتنی محبت سے پالے گئے تھے کبھی جب محبت سے وہ دیکھتے تھے تو کتنی مروت سے وہ دیکھتے تھے بہت آجزی سے وہ چلتے زمیں پر مگر ان کا چرچا تھا ارش بری پر وہ کم گو تھے بات ان کی لیکن وہ مکمل وہ انسان تھے ذات ان کی لیکن وہ مکمل انہیں زندگی کا قرینہ ملا تھا انہیں پیار امہ کا مدینہ ملا تھا وہ جو مسکراتے تو سب مسکراتے صحابہ انہی کے سب مسکراتے تجلی جو انسان کی صورت میں چمکی وہ صورت کے کنلہ کی صورت میں چمکی غتیم فقیروں پہ خیرات کرتے سوالی پہ بخشش کی برسات کرتے وہ احسان سر پر کسی کا نہ لیتے وہ حدیعہ تو لے لیتے صدقہ نہ لیتے وہ بے محر لوگوں کی پروا نہ کرتے کہ جیسا وہ کرتے وہ ایسا نہ کرتے وہ سارے صحیفوں کو بے مانہ کرتے وہ قربان سنتوں کو دیوانہ کرتے وہ ظاہر نشانی کرے ان کو زیبا وہ سہرا کو پانی کرے ان کو زیبا خدا نے انہیں سرازیم کیا تھا کہ ہر سو انہی کا ہی بس تذکرہ تھا انہوں نے ہی مشکل کو آسان بنایا انہوں نے ہی انسان کو انسان بنایا وہ قطرے کو دریہ بناتے تھے نادے وہ سرے کو سہرا بناتے تھے نادے وہ قطرے کو دریہ بناتے تھے فارسے وہ سرے کو سہرا بناتے تھے فارسے تجلی جو انسان کی صورت میں چمکی وہ صورت کے کنلہ کی صورت میں چمکی یہ سورِ مفخم کی دنیا عجب تھی یہ دھرتی بھی قائم انہی کے سبب تھی محمد ہے محبوب کون و مکان ہے وہ شان دوالم وہ جانے جہاں ہے وہ فخرِ ملائق وہ نازِ رسولہ وہ ہم سب کی چاہت وہ ہم سب کا ارماں خدا نے بنایا تو ایسا بنایا کہ اپنے ہی ہاتھوں سے ان کو سجایا کبھی جا کے شوہر وہ معصوم گوھر میں نوکر صدا ان کے بچوں کا نوکر میں قربان عیفت شرعوں پہ جاؤں میں قربان امت کی ماںوں پہ جاؤں جو فرمانِ آقا کے طابع رہی تھی جو فقر اور فاقہ پہ کانے رہی تھی میں آقا کی چاہت محبت کے صدقے میں ہر ہستیِ پاک کی نا کے صدقے یتیم فقیروں پہ خیرات کرتے سوالی پہ بخشش کی برسات کرتے وہ احسان سر پر کسی کا نہ لیتے وہ حدیعہ تو لے لیتے صدقہ نہ لیتے وہ بے محر لوگوں کی پرواہ نہ کرتے کہ جیسا وہ کرتے وہ ایسا نہ کرتے وہ سارے صحیفوں کو بے مانہ کرتے وہ قربان سنتوں کو دیوانہ کرتے وہ ظاہر نشانی کرے ان کو زیبا وہ سہرہ کو پانی کرے ان کو زیبا خدا نے انہیں سرازیم کیا تھا کہ ہر سو انہی کا ہی بس تذکرہ تھا انہوں نے ہی مشکل کو آسان بنایا انہوں نے ہی انسان کو انسان بنایا وہ قطرے کو دریہ بناتے تھے نادے وہ سرے کو سہرا بناتے تھے نادے وہ قطرے کو دریہ بناتے تھے فارسے وہ سرے کو سہرا بناتے تھے فارسے تجلی جو انسان کی صورت میں چمکی وہ صورت کے کنلہ کی صورت میں چمکی وہ صورت کے کنلہ کی صورت میں چمکی یہ سور مفرم کی دنیا عجب تھی یہ دھرتی بھی قائم انہی کے سبب تھی محمد ہے محبوب کونوں مکان ہے وہ شان دو عالم وہ جانے جہاں ہے وہ فخر ملائق وہ ناز رسولہ وہ ہم سب کی چاہت وہ ہم سب کا ارماں خدا نے بنایا تو ایسا بنایا کہ اپنے ہی ہاتھوں سے ان کو سجایا کبھی جا کے شوہر وہ معصوم گوھر میں نوکر صدا ان کے بچوں کا نوکر میں قربان عیفت شرعوں پہ جاؤں میں قربان امت کی ماںوں پہ جاؤں جو فرمان آقا کے طابع رہی تھی جو فقر اور فاقہ پہ کانے رہی تھی میں آقا کی چاہت محبت کے صدقے میں ہر ہستی پاک دینا کے صدقے