
Genre: nasheedType: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional kalam presented as an emotionally themed nasheed by Nasheed Club. The title refers to “those whom dawn swallowed,” but the specific poet, recording context, and religious or historical significance could not be reliably verified.
← Browse

AI-Enriched54%
Genre
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional kalam presented as an emotionally themed nasheed by Nasheed Club. The title refers to “those whom dawn swallowed,” but the specific poet, recording context, and…
Titles in Other Languages
EnglishHeart-Touching Emotional Kalam | Those Whom Dawn Swallowed
Lyrics
مولا مولا جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں مجھے نمک کی کان میں مٹھاس کی تلاش ہے ہیں براہنگی کے شہر میں لباس کی تلاش ہے وہ برف باریاں ہوئیں کہ پیاس خود ہی بجھ گئی میں ساغروں کو کیا کروں کہ پیاس کی تلاش ہے میرا ہوا ہے عبر ماہتعب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جو رک سکے تو روک دو یہ سیل رنگ و نور کا میری نظر کو چاہیے وہی چراغ تور کا کھٹک رہی ہے ہر کرن نظر میں خار کی طرح چھپا دیا ہے تابشوں نے آئینا شعور کا نگاہ شوق جل اٹھی حجاب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جنہیں سہر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں مولانا جنہیں سہر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں یہ دھوپ زرد زرد سی یہ چاندنی دھواں دھواں یہ طلعتیں بجی بجی یہ داغ داغ کہکشاں یہ سرخ سرخ پھول ہیں یہ زخم ہیں بہار کے یہ اوس کی فوارے ہیں یہ رورہا ہے آسمان دلوں نظر کے موتیوں کے آب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جنہیں سہر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جو مرحلوں میں ساتھ تھے وہ منزلوں پہ چھٹ گئے جو رات میں لٹے نہ تھے وہ دوپہر میں لٹ گئے مگن تھا میں کے پیار کے بہت سے گیت گاؤں گا زبان گنگ ہو گئی گلے میں گیت گھٹ گئے کٹی ہوئی ہیں انگلیاں رباب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جنہیں سہر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جنہیں سہر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں یہ کتنے پھول ٹوٹ کے بکھر گئے یہ کیا ہوا یہ کتنے پھول شاخچوں پہ مر گئے یہ کیا ہوا بڑھی جو تیز روشنی چمک اٹھی روش روش مگر لہو کے داغ بھی اُبر گئے یہ کیا ہوا انہیں چھپاوں کس طرح نقاب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جنہیں سہر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں مولانا جنہیں سہر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں نہ عشق بہ عدب رہا نہ حسن میں حیاء رہی حوص کی دھوم دام ہے نگر نگر گلی گلی قدم قدم کھلے ہوئے ہیں مکر فن کے مدرسے مگر یہ میری سادگی تو دیکھئے کہ آج بھی وفا کی درسگاہوں کا نساب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جنہیں سہر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جنہیں سہر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں بہت دنوں میں راستہ حریم ناز کا ملا مگر حریم ناز تک پہنچ گئے تو کیا ملا میرے سفر کے ساتھیوں تم ہی سے پوچھتا ہوں میں بتاو کیا سنم ملے بتاو کیا خدا ملا جواب چاہیے مجھے جواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جنہیں سہر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں جنہیں سہر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ہوں میں