Skip to main content
Mosam Udasiyon Ka cover art

Mosam Udasiyon Ka

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 5:32

Genre: nasheedType: nasheed

Story & Cultural Context

“Mosam Udasiyon Ka” translates roughly as “Season of Sadness” and appears to be an Urdu Islamic nasheed presented by Nasheed Club. Publicly identifiable information confirms the track’s devotional nasheed format, but does not reliably establish its authorship, musical mode, instrumentation, or…

← Browse
Mosam Udasiyon Ka

Mosam Udasiyon Ka

AI-Enriched70%
Genre

Story & Cultural Context

“Mosam Udasiyon Ka” translates roughly as “Season of Sadness” and appears to be an Urdu Islamic nasheed presented by Nasheed Club. Publicly identifiable information confirms the track’s devotional…

Titles in Other Languages

العربيةموسم اداسیوں کا
EnglishSeason of Sadness

Lyrics

مغفودہ سیوں کا اب مٹے تجارہا ہے
مایوسیوں کا گھیرا اب چھٹتا جارہا ہے
مل جائے گا یقینا تقدیر کو کہیں نا
ساحل پہ آ لگے گا تقدیر کا سفینہ
نیکی کا بلبلہ پھر جلوہ دکھا رہا ہے
مایوسیوں کا گھیرا اب چھٹتا جارہا ہے
خاکوں میں تامسر اب قرآن کا صحیفہ
جانوں جگر کے خون سے آراوں کا وظیفہ
اب زبط کی جبیں پر کوئی لکھا رہا ہے
مایوسیوں کا گھیرا اب چھٹتا جارہا ہے
امنو اما کا جھنڈا لے رہا ہے گھر جانی پر
ایک اجنبی بھی موقع اپنا عزیز ساتھی پر
باندل کا مانیت کا ہر سن پچھا رہا ہے
شکراللہ شکراللہ شکراللہ شکراللہ
اب حسن نبی کا بیٹا میدان بھی آ رہا ہے
اسلام کا مشاہدہ دل وار کھا رہا ہے
بنیاد بے الہ میں لو پڑ گئی درانے
الحاد شیخ فتنہ کھانے لگا پچھانے
ظلم و جبر کا رہ جا اب سب کا پا رہا ہے
اسلام کا مشاہدہ دل وار کھا رہا ہے
اب حسن نبی کا بیٹا میدان بھی آ رہا ہے
اسلام کا مشاہدہ دل وار کھا رہا ہے
سنوے نرم دریچے یادوں کے کھل رہے ہیں
اپنا الہام کے نغمے کانوں میں گل رہے ہیں
تم تک ہے راستوں پہ کوئی بلا رہا ہے
اسلام کا مشاہدہ دل وار کھا رہا ہے
اب حسن نبی کا بیٹا میدان بھی آ رہا ہے
اسلام کا مشاہدہ دل وار کھا رہا ہے
بارش ذات زوکی ہوگی ضرور رب کے
سوکی ستہنیوں پر آئے گا فور رب کے
بارش ذات زوکی ہوگی ضرور رب کے
سوکی ستہنیوں پر آئے گا فور رب کے
بجل زمین سبزے کا رنگ آ رہا ہے
اسلام کا مشاہدہ دل وار کھا رہا ہے
اب حسن نبی کا بیٹا میدان بھی آ رہا ہے
اسلام کا مشاہدہ دل وار کھا رہا ہے