
Genre: nasheed, naatYear: 2021Type: nasheed
Story & Cultural Context
An Urdu naat presenting a devotional description of the Prophet Muhammad’s radiant countenance and spiritual significance. The track is listed as a 2021 release by Nasheed Club, but no verified composer, lyricist, or production credits were found.
← Browse

AI-Enriched90%
Story & Cultural Context
An Urdu naat presenting a devotional description of the Prophet Muhammad’s radiant countenance and spiritual significance. The track is listed as a 2021 release by Nasheed Club, but no verified…
Titles in Other Languages
EnglishHis Face Is the Light of the Two Worlds
Lyrics
مصطفى مصطفى مصطفى مصطفى چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں ماتا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے آرز ہے کہ والفجر کی آیات کے امی ہیں گیسو ہے کہ والفیل کے بکھرے ہوئے سائے ابرو ہے کہ کوسر کے شب قدر کھلے ہیں چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں گردن ہے کہ بربرک زمین و جسوریاں لب سورة آتو تشعوں میں دھلے گئے بد ہے کہ نبوت کے صداق آل کمیہ باسو ہے کہ توحید کی عظمت کے عالم ہے چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں سینہ ہے کہ رمزی دل داستی کا خزینہ پلکیں ہیں کہ الفاظ روح کے لہو کلمد ہیں باتیں ہے کہ طوبہ کی چمکتی ہوں گلیاں لگ جا ہے کہ ازدہ کی زباں بول رہی ہیں چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں خدبے ہے کہ ساون کی امڑتے ہوئے دریاں کے رات ہے کہ سرار جہاں کھول رہی ہے یہ دادہ شیرازہ شبنم کے تراشے یا قوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں یہ موج تبسم ہے کہ رنگوں کی دھمک ہے یہ عزم تانط ہے کہ ٹھہرا ہوا موسم یہ شکر کے سجدے ہے کہ آیات کی تنظیر یہ اطمئنان روح کے الہام کی رمجم یہ ہاتھ کونین کی تقدیر کی عناد ہے یہ فتح صدوفان رفے مسحب و امجید یہ پاؤں یہ مہتاب کے کرنوں کے ماہد یہ نقش قدم بوس گئے رف رف جبرید چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں یہ روح تے دستار ہے یاہو جتخین یہ بند و قباد ہے کہ شگفت گل ناہید یہ سایا اے دامہ ہے کہ پھیلا ہوا بادل یہ سبہ ہے گریباں ہے کہ کمیاں زائے خرشید چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں یہ دوش پہ چادر ہے کہ بخشش کی گھٹا ہے یہ مہر نبوت ہے کہ نقشے دل مہتا رخصار کی زفے نم صوب حسل کی آنکھوں کی ملاحط ہیں کے روح شب کم فاصل چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں اس رحمت عالم کا قصیدہ کب کہہ سے جو مہر عنایت بھی ہوا برے کرم بھی کیا اس کے لیے منظر کروں جس کی صناحے سجدے میں الفاظ کی سطرے بھی کلم بھی سجدے میں الفاظ کی سطرے بھی کلم بھی چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں چہرہ حق انوار دو عالم کا صحیفہ آنکھیں کہ بحرین طبق دھس کے لگی ہیں