Skip to main content
Ujri Manzalain cover art

Ujri Manzalain

by Hafiz Jalabeeb

Album: Singles

Duration: 5:02

Genre: nasheedYear: 2021Type: nasheed

Story & Cultural Context

An emotional Urdu nasheed associated with the title “Ujri Manzalain,” suggesting themes of loss, hardship, or spiritually reflective journeys. Publicly available metadata does not clearly document its lyrical backstory, performers, or production credits.

← Browse
Ujri Manzalain

Ujri Manzalain

Singles 5:02 2021
About this recordingAuto-generated
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung by voice or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →

Story & Cultural Context

An emotional Urdu nasheed associated with the title “Ujri Manzalain,” suggesting themes of loss, hardship, or spiritually reflective journeys. Publicly available metadata does not clearly document its…

Lyrics

کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر میں بھٹکتا پھرتا ہوں دیر سے یوں ہی شہر شہر نگر نگر کہاں کھو گیا میرا قافلہ کہاں رہ گئے میرے ہمسفر یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر جنہیں زندگی کا شعور تھا انہیں بے زرین بوجھا دیا جو گرات سینہ چاک پر وہی بن کے بیٹھے گئے موت بر یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر میری بے کسی کا نہ غم کرو مگر اپنا فائدہ سوچ لو تمہیں جس کی چھاہوں عزیز ہے میں اسی درخت کہوں سمر یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر یہ بجا ہے آج اندھیرہ ہے ذرہ رت بدلنے کی دیر ہے جو خضا کے خوف سے خوشک ہے وہی شاخ لائے گی برگ و بر یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر میں بھٹکتا پھرتا ہوں دیر سے یوں ہی شہر شہر نگر نگر کہاں کھو گیا میرا قافلہ کہاں رہ گئے میرے ہمسفر یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در یہ وہی دیارِ دوست تو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر