
Genre: nasheed, munshidYear: 2022Type: nasheed
Story & Cultural Context
An Urdu devotional kalam presented by Nasheed Club, identified by the phrase “Zulmat e Shab,” meaning “darkness of the night.” Publicly available metadata identifies the performance and year but does not reliably document its authorship, arrangement, or musical mode.
← Browse

AI-Enriched95%
Story & Cultural Context
An Urdu devotional kalam presented by Nasheed Club, identified by the phrase “Zulmat e Shab,” meaning “darkness of the night.” Publicly available metadata identifies the performance and year but does…
Titles in Other Languages
العربيةظلمتِ شب
EnglishDarkness of the Night
Lyrics
ظلمتِ شب ہے پھیلی ہوئی چار سو تم بتِ ہو میں اسے کو سویرہ کہوں میں اندھیرے کو کہہ دوں سویرہ غلط سچ تو یہ ہے کہ میں تم کو جھوٹا کہوں ظلمتِ شب ہے پھیلی ہوئی چار سو تم بتِ ہو میں اسے کو سویرہ کہوں میٹھا پیاسا یہ سہرا مجھے دور سے بہتے دریا کی مانن دکھائی دیا صورتِ حال ہے اب میرے سامنے تپتے سہرا کو میں کیسے دریا کہوں ظلمتِ شب ہے پھیلی ہوئی چار سو تم بتِ ہو میں اسے کو سویرہ کہوں جو ملا مجھ کو ہمدرد بن کر ملا میرے دل کا مگر درد بڑھتا گیا آج تک فیصلہ میں نہیں کر سکا غیر کسے کو کہوں کسے کو اپنا کہوں ظلمتِ شب ہے پھیلی ہوئی چار سو ظلمتِ شب ظلمتِ شب ہے پھیلی ہوئی چار سو تم بتِ ہو میں اسے کو سویرہ کہوں رہنمائی کا پرچم لیے ہاتھ میں کاروان کو جو لوٹے اسے کیا کہوں خوف کھا کر اسے رہنما مان لوں یا کہ بے خوف ہوں کر لٹیرا کہوں ظلمتِ شب ہے پھیلی ہوئی چار سو تم بتِ ہو میں اسے کو سویرہ کہوں میں ہوں خوش تھا محبت کی تلوار کا موت ہی زندگی کا نشاہ بن گئی تم کہو منصفو اپنے قاتل کو میں اپنا قاتل کہوں یا مسیحہ کہوں ظلمتِ شب ہے پھیلی ہوئی چار سو تم بتِ ہو میں اسے کو سویرہ کہوں ظلمتِ شب ظلمتِ شب ظالموں سے کہوں جابروں سے کہوں چین سکتا نہیں کوئی میرا یہ حق آنکھ جیسا جسے دیکھتی ہے امی میرا حق ہے کہ میں اس کو ویسا کہوں ظلمتِ شب ہے پھیلی ہوئی چار سو تم بتِ ہو میں اسے کو سویرہ کہوں تم بتِ ہو میں اسے کو سویرہ کہوں