
Genre: nasheedType: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional kalam or nasheed centered on the poetic line “Udasi Ka Nagar Abad Rehta Hai,” meaning that the city of sadness remains populated. Publicly available metadata does not identify a specific composer, lyricist, production team, or documented occasion for the…
← Browse

AI-Enriched70%
Genre
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional kalam or nasheed centered on the poetic line “Udasi Ka Nagar Abad Rehta Hai,” meaning that the city of sadness remains populated. Publicly available metadata does…
Titles in Other Languages
EnglishThe City of Sadness Remains Inhabited
Lyrics
میرے اندر ایک دلکش نگر آباد رہتا ہے مصائب کا اداسی کا بھور آباد رہتا ہے کسی کے تنز کرنے سے پریشاہم نہیں ہوتے ہزاروں زخم کھا کر بھی جگر آباد رہتا ہے میرے اندر ایک دلکش نگر آباد رہتا ہے مصائب کا اداسی کا بھور آباد رہتا ہے امیروں کی حویلی میں بٹھا دیتی ہے بس قسمت غریبوں کے گھروں میں پر ہنر آباد رہتا ہے میرے اندر ایک دلکش نگر آباد رہتا ہے مصائب کا اداسی کا بھور آباد رہتا ہے جنہیں منزل کی پرواہ ہو وہ رہزن سے نہیں ڈرتے تلا تم لاکھ آ جائیں سفر آباد رہتا ہے میرے اندر ایک دلکش نگر آباد رہتا ہے مصائب کا اداسی کا بھور آباد رہتا ہے یہ سر دشمن کے قدموں میں نہیں جھکتا نہیں گرتا عزائم جس کے پختا ہو وہ سر آباد رہتا ہے میرے اندر ایک دلکش نگر آباد رہتا ہے مصائب کا اداسی کا بھور آباد رہتا ہے کسی ظالم کی وحشت کو نظر انداز کرنے سے یہ فتنہ پھر اُبرتا ہے شر آباد رہتا ہے میرے اندر ایک دلکش نگر آباد رہتا ہے مصائب کا اداسی کا بھور آباد رہتا ہے کسی کے چھوڑ جانے سے کوئی مرتا نہیں غافل فقط افسوس ہوتا ہے مگر آباد رہتا ہے میرے اندر ایک دلکش نگر آباد رہتا ہے مصائب کا اداسی کا بھور آباد رہتا ہے تمہارے روٹھ جانے سے قیامت ٹوٹ جاتی تھی مگر دیکھو تو اب آ کر یہ گھر آباد رہتا ہے میرے اندر ایک دلکش نگر آباد رہتا ہے مصائب کا اداسی کا بھور آباد رہتا ہے میرے اندر ایک دلکش نگر آباد رہتا ہے مصائب کا اداسی کا بھور آباد رہتا ہے