Skip to main content
Zameen Se Mot Abal Rahi Hai cover art

Zameen Se Mot Abal Rahi Hai

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 6:23

Genre: nasheed, ilahi, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu devotional kalam centered on fikr-e-akhirat, or reflection on the Hereafter, mortality, and the fleeting nature of worldly life. The phrase “Zameen Se Maut Ubal Rahi Hai” conveys an emotionally urgent warning about death and accountability.

← Browse
Zameen Se Mot Abal Rahi Hai

Zameen Se Mot Abal Rahi Hai

AI-Enriched85%

Story & Cultural Context

This appears to be an Urdu devotional kalam centered on fikr-e-akhirat, or reflection on the Hereafter, mortality, and the fleeting nature of worldly life. The phrase “Zameen Se Maut Ubal Rahi Hai”…

Titles in Other Languages

EnglishEmotional Reflection on the Hereafter Kalam | Death Is Boiling from the Earth

Lyrics

ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
چار جانب ہے پانی پانی، اسی کی ہر سو ہے حکمرانی۔
عذابِ آبی سے زیست انسان کی برف پل پل پگھل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
یہ تند لہرے ہیں آب جاری یا پھر کوئی موت کا فرشتہ؟
یہ تند لہرے ہیں آب جاری یا پھر کوئی موت کا فرشتہ؟
محی برے لے کی شکل میں جو حیاتِ ہستی کو چل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
کہاں ہیں اب اقتدار والے، کہاں دلِ غم گزار والے؟
کہاں ہیں اب اقتدار والے، کہاں دلِ غم گزار والے؟
یقین مانے کے شام آخر اب اس حکومت کے ڈھل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
زمین لاشوں سے پھٹ گئی ہے، فضاء پہ ہے موت کا بسیرا۔
زمین لاشوں سے پھٹ گئی ہے، فضاء پہ ہے موت کا بسیرا۔
غریب لوگوں کی ایک ایک شے سلاوی ریلوں میں رل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
مگر جنہوں نے ضمیر و غیرت کو بیچ ڈالا ہے ان کے دل پر۔
مگر جنہوں نے ضمیر و غیرت کو بیچ ڈالا ہے ان کے دل پر۔
نہ کچھ اثر ہے نہ رنج ان کو، نہ کوئی بات ان کو کھل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
نہیں کوئی شک ہمیں اے مصعف یہ بات کہنے میں ماننے میں۔
نہیں کوئی شک ہمیں اے مصعف یہ بات کہنے میں ماننے میں۔
کہ اس وطن کی ہر اک حکومت بری طرح نہ احل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔
ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔
ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔