
Genre: nasheed, ilahi, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional kalam centered on fikr-e-akhirat, or reflection on the Hereafter, mortality, and the fleeting nature of worldly life. The phrase “Zameen Se Maut Ubal Rahi Hai” conveys an emotionally urgent warning about death and accountability.
← Browse

About this recordingAuto-generated
Genre
nasheedNasheed · Arabic نشيدA devotional Islamic song. Traditionally sung by voice or with a frame drum; many modern ones add instruments.Browse →Glossary →ilahiIlahi · Turkish ilahiA Turkish devotional hymn, often from the Sufi tradition.Browse →Glossary →munshidMunshid · Arabic منشدThe singer of nasheeds. "Inshad" is the act of performing them.Browse →Glossary →
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional kalam centered on fikr-e-akhirat, or reflection on the Hereafter, mortality, and the fleeting nature of worldly life. The phrase “Zameen Se Maut Ubal Rahi Hai”…
Titles in Other Languages
EnglishEmotional Reflection on the Hereafter Kalam | Death Is Boiling from the Earth
Lyrics
ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ چار جانب ہے پانی پانی، اسی کی ہر سو ہے حکمرانی۔ عذابِ آبی سے زیست انسان کی برف پل پل پگھل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ یہ تند لہرے ہیں آب جاری یا پھر کوئی موت کا فرشتہ؟ یہ تند لہرے ہیں آب جاری یا پھر کوئی موت کا فرشتہ؟ محی برے لے کی شکل میں جو حیاتِ ہستی کو چل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ کہاں ہیں اب اقتدار والے، کہاں دلِ غم گزار والے؟ کہاں ہیں اب اقتدار والے، کہاں دلِ غم گزار والے؟ یقین مانے کے شام آخر اب اس حکومت کے ڈھل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ زمین لاشوں سے پھٹ گئی ہے، فضاء پہ ہے موت کا بسیرا۔ زمین لاشوں سے پھٹ گئی ہے، فضاء پہ ہے موت کا بسیرا۔ غریب لوگوں کی ایک ایک شے سلاوی ریلوں میں رل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ مگر جنہوں نے ضمیر و غیرت کو بیچ ڈالا ہے ان کے دل پر۔ مگر جنہوں نے ضمیر و غیرت کو بیچ ڈالا ہے ان کے دل پر۔ نہ کچھ اثر ہے نہ رنج ان کو، نہ کوئی بات ان کو کھل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ نہیں کوئی شک ہمیں اے مصعف یہ بات کہنے میں ماننے میں۔ نہیں کوئی شک ہمیں اے مصعف یہ بات کہنے میں ماننے میں۔ کہ اس وطن کی ہر اک حکومت بری طرح نہ احل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔ ہوا ہے شق آسماں کا سینہ، زمین پانی اگل رہی ہے۔ ہٹا ہے قہرِ خدا کا لاوا، زمیں سے بس موت ابل رہی ہے۔