Skip to main content
Paraishaniyon Nay He Sataya cover art

Paraishaniyon Nay He Sataya

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 4:10

Genre: nasheed, ilahi, munshidType: nasheed

Story & Cultural Context

An Urdu emotional devotional kalam centered on the pain and persistence caused by hardship. Publicly available listing information identifies it as a Nasheed Club track, but does not provide verified credits, instrumentation, or a documented release context.

← Browse
Paraishaniyon Nay He Sataya

Paraishaniyon Nay He Sataya

AI-Enriched70%

Story & Cultural Context

An Urdu emotional devotional kalam centered on the pain and persistence caused by hardship. Publicly available listing information identifies it as a Nasheed Club track, but does not provide verified…

Titles in Other Languages

EnglishTroubles Have Been the Only Torment

Lyrics

مولا مولا مولا مولا یا اللہ مولا مولا پریشانیوں نے ستایا میری چشمِ عشق بارا تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا میں مغموم ہوں میں مولا مسائل میں الجھا ہوں گناہ نے رسوا کر دے ہیں بلا میں گرا مولا تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا پریشانیوں نے ستایا میری چشمِ عشق بارا تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا مٹا مایوسیہ میری میرا دامن خوشی سے بھر مٹا مایوسیہ میری میرا دامن خوشی سے بھر میرے حالات سے واقع فراہ دے تو معثر کر تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا پریشانیوں نے ستایا میری چشمِ عشق بارا تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا میری تنگی ماشی بھی مجھے ہر آن رولاتی ہے میرے ہاتھ بھی خالی عطا مجھ کو خزانے کر تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا پریشانیوں نے ستایا میری چشمِ عشق بارا تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا بنی اولاد بھی سرکش باوت سے ہے دھتکارا نہ کوئی سہارا اب تجھی کو اے رب پکارا تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا پریشانیوں نے ستایا میری چشمِ عشق بارا تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا دلوں کو پھیر دے یا رب تیری ہی انگلیوں میں ہے میری روداد کا سننا تیری ہی عظمتوں میں ہے تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا پریشانیوں نے ستایا میری چشمِ عشق بارا تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا پریشانیوں نے ستایا میری چشمِ عشق بارا تیرے قلبِ مسترب کو تیرے در پر پُہا لایا