Skip to main content
Tashreef Muhammad Le Aaye cover art

Tashreef Muhammad Le Aaye

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 7:40

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2022Type: nasheed

Story & Cultural Context

A Urdu naat celebrating the arrival and blessed presence of the Prophet Muhammad, titled “Tashreef Muhammad Le Aaye.” The release is presented as a new Rabi al-Awwal 2022 devotional performance.

← Browse
Tashreef Muhammad Le Aaye

Tashreef Muhammad Le Aaye

Nasheeds 7:40 2022
AI-Enriched90%

Story & Cultural Context

A Urdu naat celebrating the arrival and blessed presence of the Prophet Muhammad, titled “Tashreef Muhammad Le Aaye.” The release is presented as a new Rabi al-Awwal 2022 devotional performance.

Titles in Other Languages

العربيةتشریف محمد لے آئے
EnglishMuhammad Has Arrived

Lyrics

کچھ کفر نے فتنے پھیلائے کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
سینوں میں عداوت جاگ اٹھی انسان سے انسان ٹکرائے
عامل کیا برباد کیا کمزور کو طاقت والوں نے
جب ظلم ستم حد سے گزرے تشریف محمد لے آئے
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
سینوں میں عداوت جاگ اٹھی انسان سے انسان ٹکرائے
رحمت کے گھٹائیں لہرائیں دنیا کی امیدیں بھر آئیں
اکرام و عطا کی بارش کی اخلاق کے موتی برسائیں
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
سینوں میں عداوت جاگ اٹھی انسان سے انسان ٹکرائے
غیب کی شمیں روشن کی پھوٹوں کو چرانے والوں نے
کاتوں کو گلوں کی قسمت دی ذلوں کے مقدر چمکائے
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
سینوں میں عداوت جاگ اٹھی انسان سے انسان ٹکرائے
کچھ کیف دیا کچھ حشیاری کچھ سوز دیا کچھ ساز دیا
مے خانہ علم و عرفہ میں توحید کے ساگر چلکائے
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
سینوں میں عداوت جاگ اٹھی انسان سے انسان ٹکرائے
ہر چیز کو رانا ہی دے کر دنیا کو حیات نو بخشی
صبحوں کے بھی چہروں کو دھویا راتوں کے بھی گیسوں سلجھائے
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
سینوں میں عداوت جاگ اٹھی انسان سے انسان ٹکرائے
اللہ سے رشتے کو جوڑا باطل کے تلسموں کو توڑا
خود وقت کے دھارے کو موڑا توفاں میں سفینے تیرا آئے
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
سینوں میں عداوت جاگ اٹھی انسان سے انسان ٹکرائے
دین بار بھی دی پورے عام بھی دیا دنیا بھی اتا کی اقبا بھی
مرنے کو شہادت فرمایا جینے کے طریقے سمجھائے
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
سینوں میں عداوت جاگ اٹھی انسان سے انسان ٹکرائے
ماکا کے زمین اور عرش کہاں دم بھر میں یہاں پل بھر میں وہاں
پتھر کو اتا گویا آئی کی اور چاند کے ٹکڑے فرمایے
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
سینوں میں عداوت جاگ اٹھی انسان سے انسان ٹکرائے
توحید کا دھارا رک نہ سکا اسلام کا پرچم جھک نہ سکا
غفار بہت کچھ جنجلائے شیطان ہزاروں بھلکائے
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
سینوں میں عداوت جاگ اٹھی انسان سے انسان ٹکرائے
نام محمد صل علیہ ماہر کے لیے تو سب کچھ ہے
ہونٹوں پہ تباسم بھی آیا آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
سینوں میں عداوت جاگ اٹھی انسان سے انسان ٹکرائے