Skip to main content
Waqia e Hijrat - Salle Ala Nabiana cover art

Waqia e Hijrat - Salle Ala Nabiana

by Nasheed Club

Album: Nasheeds

Duration: 7:25

Genre: nasheed, naat, madih, munshidYear: 2023Type: nasheed

Story & Cultural Context

This Urdu naat recounts the Waqia-e-Hijrat, the significant migration associated with the Prophet Muhammad, and includes salutations upon him through the phrase “Salle Ala Nabiana.” The recording appears to be a contemporary 2023 devotional release by Nasheed Club.

← Browse
Waqia e Hijrat - Salle Ala Nabiana

Waqia e Hijrat - Salle Ala Nabiana

Nasheeds 7:25 2023
AI-Enriched95%

Story & Cultural Context

This Urdu naat recounts the Waqia-e-Hijrat, the significant migration associated with the Prophet Muhammad, and includes salutations upon him through the phrase “Salle Ala Nabiana.” The recording…

Titles in Other Languages

العربيةواقعۂ ہجرت - صلِّ علیٰ نبینا
EnglishThe Story of the Hijrah - Blessings Upon Our Prophet

Lyrics

صلِّ علی صلِّ علی
صلِّ علی صلِّ علی

اوبرتا دی ن دیکھا تو
گفر سر جوڑ بیٹھا ہے
مقام دارِ ندوا کی طرف
رخ موڑ بیٹھا ہے
ادھر گمراہ کرنے کے لیے
شیطان بھی آ پہنچا
بزرگانا صلحجے میں
چلوں گا چال یہ سوچا
دیا یہ مشورہ کر دو
قتل سرکارِ عالم کو
فہنہ دین پر کوئی
نہ اسلام سالم ہو
کوئی تدبیر سوچے لاکھ
پر اللہ اللہ ہے
ہر ایک تدبیر کا بانی
فقط میرا ہی اللہ ہے
عرش سے لادلے کا
انتظامِ ارتحال آیا
مدینے کی طرف چلیئے
یہ حکمِ ظل جلال آیا

صلِّ علی صلِّ علی
صلِّ علی محمد
صبحِ ہجرت علی بے خوف
بستر پر رہے نائم
شجاعت کی یہی سے تو
روایت ہو گئی قائم
نکل کر اپون گھر سے
اپنے مٹی اٹھائی تھی
ہر ایک دشمن کی آنکھوں تک
خدا نے پہنچائی تھی
بچا کر اپون پیارے کو
خدا میں فوز لایا ہے
کیا رخ یار نے ایک یار کو
جا کر جگایا ہے
وہ منظر کس قدر صدیق
کی آنکھوں کو بھایا تھا
کمر پر اپون آقا کو
چڑھائی میں اٹھایا تھا
بموں درک اس قدر صدیق
نے میخار جاؤں گا
سبعی زار سانی کا
میں اندر سے ہٹاؤں گا
صلِّ علی صلِّ علی
محمد
صلِّ علی
صلِّ علی
محمد
غلاموں کی طرح آقا
کی خاطر کی نزافت ہے
چلے آؤ ابھی آقا
ہر ایک ایسی رفاقت ہے
سلایا موسخہ کو گود میں
صدیق اکبر نے
سہرڈنگ سانپ کا پر نہ
ہٹایا آپ کو ڈر نے
دہا سوں گرا جا کر
نبی کے رخ مبارک پر
ہوئے بے دار آقا
گود سے اوپر اٹھایا سر
لوام پاک کو ایڈی پہ ملتے ہیں
میرے آقا
محبت کس طرح کی ہے
عجب سا ان کا ہے نا تا
نبی سے یوں محبت اور
گرانا بھول نہ جانا
وفائے اس طرح ان کا
نبھانا بھول نہ جانا
صلِّ علی
صلِّ علی
محمد
صلِّ علی
صلِّ علی
محمد
کسی کا ہو اگر صدیق
تو صدیق جیسا ہو
کسی کا یار ہو کوئی
تو جارے غار جیسا ہو
ادھر دشمن نبی کو ہے
طرف ڈونڈے وہاں آئے
بنیں کچھ جال مکڑی کے
کبوتر گھونس لے پائے
جو سارت کر سکے نہ
غار کے اندر کو جانے کی
ہے کیا تدبیر اللہ کی
پیغمبر کو بچانے کی
بعد از دین دن نکلے
سفر آگے ملانے کو
لیے رہمر چلے اس رب کی
جانب دی پھیلانے کو
ادھر کفار نے اعلان کیا
جو دے پتا ان کا
وہی سردار اپنا ہے
جمل سو ہے انام اس کا
سراکہ نے جو دیکھا تو
کہا کیوں کر نہ جاؤں میں
خبر کر دوں پیغمبر کی
بڑا انام پاؤں میں
پلٹ کر دیکھ نہ تا کے
سواری دس گئی آدھی
گرے تد موں میں کلمہ
پڑھ لیا اور بن گئے حادی
کٹن انجان رستے سے
نبی صدیق چلتے ہیں
کبھی یہ پاڑ چڑتے ہیں
کبھی وہ پاڑ چڑتے ہیں
تکاں سے چور سایا
کے شجر ما تحت آئے ہیں
خدا کے لادلے دونوں
بڑے خوشبخت آئے ہیں
صل علی نبی اینا
صل علی محمد
صل علی شفی اینا
صل علی محمد
نظر آئی ام مابب
کی چھوٹی جھوپڑی آنکھیں
اوبرتے شمس کی گرمی سے
پیاسے ساکی کوسر
کہا سے دیکھ سے پانی
پلاو ایک دو ساگر
کہا بوڑی نے کچھ بھی تو
نہیں بس ہے غنم لاغر
بی آئرکھا جو دست انور
ایسی بکری پر بھرے برتن
کے خود پی لیا دکھلا گئے مظر
سفر تکمیل کی جانب
بڑا پہنچے کبھا جا کر
ملے کئی کافلیں اس رب سے
ان کو اب یہاں آ کر
علی پہنچے کبھا تو
جلدیا یہ کافلا آگے
سمائے جشن تھا جتنا
رہا تھا فاصلہ آگے
ترانے ان کی آمد کے
ہر ایک جاگوج تے پائے
گروں سے بیتخانوں سے
سبی باہیں نکل آئے
ابو ایوب انصاری کے گھر پر
ٹھہر جاتے ہیں
یہیں پر لوگ ان کی دید کو
آتے ہیں جاتے ہیں
اسی گھر سے دوبارہ
دین کی پھر سے ابتداء
یہیں پر سفر ہجرت کی
ہوئی ہے یار انتہا
صل علی نبینا
صل علی محمد
صل علی شفی انا
صل علی محمد