
Genre: nasheed, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
This is an Urdu devotional and reflective kalam presented as a heart-touching, melancholic nasheed performance. Publicly available metadata identifies the title and performer/channel context, but does not provide verified credits for the underlying poet, composer, arrangement, or production.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
This is an Urdu devotional and reflective kalam presented as a heart-touching, melancholic nasheed performance. Publicly available metadata identifies the title and performer/channel context, but does…
Titles in Other Languages
العربيةعجب ہے رنگِ چمن
EnglishHow Strange Is the Color of the Garden
Lyrics
جا بجا اداسی ہے عجب ہے رنگ چمن جا بجا اداسی ہے مہک اداسی ہے بادے سبا اداسی ہے کہیں نہیں بھلا کس نے کہہ دیا تم سے میں ٹھیک تھا کہواں بس ذرا اداسی ہے میں مبتلا کبھی ہوتا نہیں اداسی میں میں وہ ہوں جس میں کے خود مبتلا اداسی ہے عجب ہے رنگ چمن جا بجا اداسی ہے مہک اداسی ہے بادے سبا اداسی ہے طبیب نے کوئی تفصیل تو بتائی نہیں بہت جو پوچھا تو اتنا کہا اداسی ہے گوداز قلب خوشی سے بھلا کسی کو ملا عظیم وصف ہی انسان کا اداسی ہے عجب ہے رنگ چمن جا بجا اداسی ہے مہک اداسی ہے بادے سبا اداسی ہے شدید درد کی روح ہے رواں رگے جاں میں بلا کرنج ہے بے انتہا اداسی ہے فراق میں بھی اداسی بڑے کمال کی تھی پسے وصال تو اس سے سوا اداسی ہے عجب ہے رنگ چمن جا بجا اداسی ہے مہک اداسی ہے بادے سبا اداسی ہے تمہیں ملے جو خزانے تمہیں مبارک ہوں میری کمائی تو یہ بے بہا اداسی ہے چھپا رہی ہوں مگر چھپ نہیں رہی میری جاں جھلک رہی ہے جو زیرے پبا اداسی ہے عجب ہے رنگ چمن جا بجا اداسی ہے مہک اداسی ہے بادے سبا اداسی ہے مجھے مسائل کونوں مقاصد کیا مطلب میرا تو سب سے بڑا مسئلہ اداسی ہے فلک ہے سر پہ اداسی کی طرح پھیلا ہوا زمین نہیں ہے میرے زیرے پا اداسی ہے عجب ہے رنگ چمن جا بجا اداسی ہے مہک اداسی ہے بادے سبا اداسی ہے وصل کے بھیس میں آئی ہے آج مہرمدر سخن کی اوڑے ہوئے ہے ریدہ اداسی ہے عجیب ترحہ کی حالت میرے بے احوال عجیب ترحہ کی بے ماجرہ اداسی ہے عجب ہے رنگ چمن جا بجا اداسی ہے مہک اداسی ہے بادے سبا اداسی ہے وہ کیف ہجر میں اب غالباں شریک نہیں کئی دنوں سے بہت بے مزہ اداسی ہے وہ کہہ رہے تھے کہ شاید غزب کا ہے عرفان ہر ایک شیر میں کیا غم ہے کیا اداسی ہے عجب ہے رنگ چمن جا بجا اداسی ہے مہک اداسی ہے بادے سبا اداسی ہے