
Genre: nasheed, ilahiType: nasheed
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional audio piece presented as a heart-touching emotional dua, with “Bhula Hua Tha Khud Ko” as its principal phrase or subtitle. No reliable public source was found confirming its composer, lyricist, production credits, or a specific release occasion.
← Browse

AI-Enriched85%
Story & Cultural Context
This appears to be an Urdu devotional audio piece presented as a heart-touching emotional dua, with “Bhula Hua Tha Khud Ko” as its principal phrase or subtitle. No reliable public source was found…
Titles in Other Languages
EnglishI Had Forgotten Myself
Lyrics
مولا مولا مولا یا مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا دن رات سرکشی میں تقدیر میں گزارے ما شوق دنیا بھی کے تذکیر میں گزارے چوکٹ پہ تیری خاطر مجرم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا ہٹکا ہوا ہوں یا رب منزل کو ڈھونڈتا ہوں تجھ پر ہی جو فدا ہوں اس دل کو ڈھونڈتا ہوں اس دل کو ڈھونڈتا ہوں مصبوت کردے مجھ کو ناعم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا کس جگہ میں گم تھا خود کو میں کھو گیا تھا غفلت کی زندگی تھی گمراہ ہو گیا تھا غفلت شعار ہوں میں سالم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا قربت تیری اطاع ہو اس روز یا ہدایا ان صفت منزلوں میں مجھ پر ہو تیرا سایا تیرا رہوں گا ہر دم عاصم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا کرتا ہوں آج توبہ بس ششک کام تیرا لطف و کرم ہو مجھ پر اب صبح و شام تیرا تھم درد پر نظر ہو سائم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا دن رات سرکشی میں تقدیر میں گزارے ما شوق دنیا بھی کے تذکیر میں گزارے چوکٹ پہ تیری خاطر مجرم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا بھولا ہوا تھا خود کو عاصم ہوں میرے مولا توبہ ہے میری توبہ نادم ہوں میرے مولا