
Heart Touching Hamad - Chand Taron Mein Tu - Jalabeeb Qadri - Nasheed Club - AE Khudaya
by Nasheed Club
Album: Nasheeds
Genre: nasheed, hamd, munshidType: nasheed
Story & Cultural Context
An Urdu devotional hamd centered on praise and remembrance of Allah, using the image of divine presence in the moon and stars. The title associates the performance with Jalabeeb Qadri and the Nasheed Club catalog, but publicly available metadata does not clearly document the original composer,…
← Browse

AI-Enriched70%
Featured Artists
Jalabeeb Qadri
Story & Cultural Context
An Urdu devotional hamd centered on praise and remembrance of Allah, using the image of divine presence in the moon and stars. The title associates the performance with Jalabeeb Qadri and the Nasheed…
Titles in Other Languages
العربيةاے خدایا
EnglishO God — You Are in the Moon and Stars
Lyrics
تو ہی مالک بحر و بر ہے یا اللہ تو ہی مالک جن و بشر ہے یا اللہ چاند تاروں میں تو مرگزاروں میں تو اے خدا یا کس نے تیری حقیقت کو پایا چاند تاروں میں تو مرگزاروں میں تو اے خدا یا کس نے تیری حقیقت کو پایا تو نے پتھر میں کیڑے کو پالا خشک مٹی سے سبزہ نکالا سارے جگ میں کہیں تیرا سانی نہیں اے خدا یا کس نے تیری حقیقت کو پایا کس نے تیری حقیقت کو پایا چاند تاروں میں تو مرگزاروں میں تو اے خدا یا کس نے تیری حقیقت کو پایا یا الہی یہ کیا ماجرہ ہے طائروں میں تیری ہی سنا ہے بہروں بر میں بھی تو خشک و تر میں بھی تو اے خدا یا کس نے تیری حقیقت کو پایا کس نے تیری حقیقت کو پایا چاند تاروں میں تو مرگزاروں میں تو اے خدا یا کس نے تیری حقیقت کو پایا کس نے تیری حقیقت کو پایا خدا نے ہر کسی کو ایک نیا انداز بخشا ہے کسی کو سوز بخشا ہے کسی کو ساز بخشا ہے عطا کر کے کسی کو رنگ و رونک دل کشی شوقی جمال و حسن کابے مثالے کے اعجاز بخشا ہے ترنم سے نوازا ہے کسی کو رب اکبر نے کسی کو ماہر فن خوشنما شہباز بخشا ہے گلوں کو رنگ بو سے کس قدر شاداب رکھتا ہے پرندوں کو عجب بالو پرے پرواز بخشا ہے فرشتوں کو عدای بندگی سکھلائی ہے رب نے مگر خوروں کو اس نے صورت شہناز بخشا ہے رضا اے رب جسے چاہے عطا کر دے نیا منصب اسی نے ہر کسی کو زلط و اعزاز بخشا ہے وفا کا رنگ دنیا میں دیا عشاق کو جس نے حسینوں کو اسی نے دل بری کا ناز بخشا ہے ادا کیسے کروں میں شکر اپنے رب عظم کا ادا کیسے کروں میں شکر اپنے رب عظم کا مجھے جس نے بہت عالی حسین غمزار بخشا ہے زمانے کی نزاکت کو بھلا سمجھے نہیں کیسے دل شاعر کو قدرت نے شعور راز بخشا ہے خدا چاہے گا تو پھر خوب تر انجام بھی ہوگا مجھے ذوق سخن کا اس نے جب آغاز بخشا ہے چاند تاروں میں تو مرگزاروں میں تو اے خدا یا کس نے تیری حقیقت کو پایا کس نے تیری حقیقت کو پایا تیرے جلوے آیا تو نہا ہے تیری ہستی کا مظہر جہاں ہے دم تیرا بھروں سجدہ تیرا کروں اے خدا یا کس نے تیری حقیقت کو پایا کس نے تیری حقیقت کو پایا چاند تاروں میں تو مرگزاروں میں تو اے خدا یا کس نے تیری حقیقت کو پایا ہرک زر میں تیری سنا ہے پتے پتے میں جلوہ تیرا ہے ہم نے دیکھا جدھر تجھ کو پایا ادھر اے خدا یا کس نے تیری حقیقت کو پایا چاند تاروں میں تو مرگزاروں میں تو اے خدا یا کس نے تیری حقیقت کو پایا